لندن کی کیبس پاکستان میں چلیں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت دور کی بات نہیں کہ لندن میں چلنے والی بلیک کیبس (کالی ٹیکسیاں) پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں پر دیکھی جا سکیں گی جن میں دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ برطانوی کیبس اسلام آباد اور دیگر شہروں میں اس لیئے چلیں گی کہ حکومتِ پاکستان نے برطانیہ سے تین سو کالی ٹیکسیوں کے پاکستان میں ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ اور جو کمپنی ان کیبس کو درآمد کر رہی ہے اس کا منصوبہ ہے کہ وہ اٹھارہ ہزار ایسی گاڑیاں ایک سال میں تیار کرے گی۔ اور پاکستان میں اس طرح تیار ہونے والی گاڑیوں میں سے آدھی یعنی نو ہزار ٹیکسیاں برآمد بھی کی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جس سے ملک میں پرائیویٹ ٹیکسیوں کی شدید کمی کا ازالہ کیا جا سکے گا۔
پاکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری عمر احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حکومت نے ایک پرائیویٹ کمپنی کو تین سو کالی ٹیکسیاں برطانیہ سے درآمد کرنے کی اجازت دی ہے جو پر ڈیوٹی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ یہ کمپنی پاکستان میں کالی ٹیکسیاں تیار کرنے کا ایک پلانٹ بھی قائم کرے گی جس میں سالانہ اٹھارہ ہزار ٹیکسیاں تیار کی جائیں گی۔ عمر احمد نے اپوزیشن کی طرف سے یہ الزامات مسترد کر دیئے کہ یہ معاہدہ شفاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ معاہدہ ایک پرائیویٹ کمپنی سے کیا گیا ہےجو پاکستان میں ایک ہزار پانچ سو ستر ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہوگئی ہے۔‘ وزیر کے مطابق اس منصوبے کے اصل مختار کیلیفورنیا میں رہنے والے ایک پاکستانی داؤد خان ہیں جن کا امریکہ میں وسیع کاروبار ہے۔ وزیرِ سرمایہ کاری کے مطابق داؤد خان کے اس منصوبے سے پاکستان میں پچاس ہزار افراد کو نوکریاں ملیں گی اور ہر شخص کی تنخواہ تقریبا تین سو امریکی ڈالر ماہانہ ہوگی۔ برطانیہ سے درآمد کی جانے والی یہ بلیک کیبس کیسی ہوں گی اس کے بارے میں تمام تفصیلات دستاویز پر تحریر کر دی گئی ہیں۔ دو اعشاریہ چار لٹر کی ڈیزل سے چلنے والی ان گاڑیاں پر مسافر ایک دوسرے کی طرف منہہ کر کے بیٹھیں گے جبکہ ڈرائیور کی علیحدہ نشست ایک مقفل کیبن میں ہوگی۔ | اسی بارے میں بغداد میں مہنگی ترین ٹیکسی20 November, 2004 | آس پاس ’کیب ایلوس‘10 December, 2003 | آس پاس نیویارک کے ایشیائی ڈرائیور17 July, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||