| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کیب ایلوس‘
اگر آپ چاہتے ہیں کہ جس ٹیکسی میں آپ بیٹھیں اس ٹیکسی کا ڈرائیور یا تو ایلوس پریسلے ہو یا مارلن مونرو تو پھر امریکہ کا شہر سیاٹل آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ سیاٹل کی انتظامیہ کے جاری کردہ ایک نئے قانون کے مطابق اب ٹیکسی ڈرائیور مشہور شخصیات، اداکاروں اور فرضی کرداروں کی طرح کے لباس پہن سکتے ہیں یا یوں کہیئے کہ ان کی طرح کا بھیس بدل کر ٹیکسی چلا سکتے ہیں۔ شہر کی کونسل کی طرف سے پیر کو منظور کیے جانے والا قانون شہر کے ایک ٹیکسی ڈرائیور ڈیوڈ گروہ کی ایک طویل مہم کا نتیجہ ہے۔ گروہ ایلوس پریسلے کی طرح کے کپڑے پہننا پسند کرتا ہے۔ گروہ نے، جو خود کو’ کیب ایلوس‘ کہتا ہے، یہ لباس گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پہننا شروع کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسا اس نے صدمے سے دوچار امریکیوں کو ہنسانے کے لیئے کیا تھا۔ اخبار نیو یارک ٹائم کے مطابق گروہ کا کہنا ہے کہ بڑے لوگوں نے اس کے لباس کو پسند کیا اور ’اس کی وجہ سے ان کے چہروں پر مسکراہٹ نمایاں تھی‘۔ لیکن اسکا یہ آئیڈیا ٹیکسی انسپکٹروں کو پسند نہیں آیا اور اسے ڈرائیور کا مطلوبہ لباس یعنی کالی پتلون اور کالر والی شرٹ نہ پہننے پر ساٹھ ڈالر جرمانہ کر دیا گیا۔ اس کی اپیل مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد گروہ نے مقدمہ درج کرایا جو بعد میں واپس لے لیا۔ تاہم نئے قانون کے بھی کئی ضوابط ہیں۔ اس کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور کوئی ماسک نہیں پہن سکتے اور نہ ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کا لباس پہن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زیادہ بھڑکیلے لباس پر بھی پابندی ہے۔ کسی بھی فینسی ڈریس کے لیئے دی جانے والی درخواست کی منظوری ٹیکسیوں کے مالکان سے لینی پڑے گی اور یہ ضروری ہے کہ ڈرائیور کی فینسی لباس اور عام لباس میں دو تصاویر ٹیکسی کے اندر چسپاں ہوں۔ تو اگر آپ کا مارلن مونرو کے ساتھ ڈرائیوری کا شوق ہے تو وہ پورا ہو سکتا ہے لیکن اسکا ہوا میں اڑتا ہوا لباس دیکھنے کا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||