BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 August, 2006, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالی ٹیکسیوں کا منصوبہ خطرے میں

حکومت لندن جیسی کالی ٹیکسیاں پاکستان میں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے
لندن میں چلنے والی بلیک کیبس (کالی ٹیکسیاں) پاکستان کے بڑے شہروں میں چلانے کے منصوبے میں کسی پارٹی نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور حکومت کا یہ خواب فی الوقت پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔

تقریبا تین ماہ قبل جب حکومت نے تین سو کالی ٹیکسیاں ڈیوٹی فری درآمد کرنے کی منظوری دی تھی اور اس طرح کی گاڑیاں پاکستان میں بنانے کی صورت میں درآمدی اشیاء پر ٹیکس کی رعایت کا بھی اعلان کیا تو لگ رہا تھا کہ اب وہ دن دور نہیں کہ پاکستان کی سڑکوں پر لندن والی ٹیکسیاں چلیں گی۔

لیکن مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ پاکستان کے وزیر صنعت جہانگیر خان ترین نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے اس بارے میں جو اشتہار دیے تھے اس پر کسی پارٹی نے دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔

جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی خاتون رکن فوزیہ وہاب کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر صنعت نے تحریری جواب میں کہا ہے کہ کسی فریق نے لندن کی کالی ٹیکسیاں منگوانے کے لیئے نہ تو درخواست دی ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی کو اجازت دی ہے۔

حکومت نے رواں سال بائیس مئی کو جو پالیسی منظور کی تھی اس کے مطابق جو کمپنی ان کیبس کو درآمد کر رہی ہے اس کا منصوبہ ہے کہ وہ اٹھارہ ہزار ایسی گاڑیاں ایک سال میں تیار کرے گی۔

اور پاکستان میں اس طرح تیار ہونے والی گاڑیوں میں سے آدھی یعنی نو ہزار ٹیکسیاں برآمد بھی کی جائیں گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایسے منصوبے کی منظوری دی تھی جس سے ملک میں پرائیویٹ ٹیکسیوں کی شدید کمی کا ازالہ کیا جا سکے گا۔

حکومت کے اس اعلان کے بعد حزب مخالف نے الزام لگایا تھا کہ ایک وزیر نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر لندن کی کالی ٹیکسیاں ڈیوٹی فری منگوانے کی منظوری حاصل کرکے اپنے اختیارات کا فائدہ اٹھایا ہے۔

لیکن حزب مخالف کےالزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر سرمایہ کاری عمر احمد نے کہا تھا کہ متعلقہ کمپنی سے اس بارے میں معاہدہ شفاف ہے۔

عمر احمد کے مطابق یہ معاہدہ ایک پرائیویٹ کمپنی سے کیا گیا ہے جو پاکستان میں ایک ہزار پانچ سو ستر ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہے۔

اسی بارے میں
پاک چین دو دفاعی معاہدے
16 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد