پاک چین دو دفاعی معاہدے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور چین نے تمام علاقائی اور عالمی امور پر ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے دفاعی تعاون اور فوجی امداد کے بارے میں دو معاہدوں پر دستخط کیئے ہیں۔ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان دفاع اور سلامتی کے امور پر بات چیت کا چوتھا دور منگل کو راولپنڈی میں مکمل ہوگیا تھا لیکن اس بارے میں اعلان فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا ہے۔ معاہدوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں ہیں کہ ان کے تحت چین کس قسم کے جدید ہتھیار اور مدد فراہم کرے گا اور نہ ہی حکام اس بارے میں کچھ بتانے کو تیار ہیں۔ بیان میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ معاہدے فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور ان کے تحت چین پاکستان کی مسلح افواج کو دفاع اور سلامتی کے شعبوں سمیت فوجی سازو سامان فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کو چین جدید لڑاکا طیاروں اور ٹینکوں کی فراہمی اور اس بارے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی سمیت جوہری بجلی گھر لگانے تک مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ جب امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری بجلی پیدا کرنے میں مدد سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو اس وقت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ چین سمیت دنیا کے اکثر ممالک سے وہ جوہری بجلی کی پیداوار بڑھانے کے بارے میں مدد حاصل کرے گا۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک میں دفاعی تعاون کے بارے میں بات چیت کا یہ اعلٰی ترین فورم ہے اور اس کا پہلا دور مارچ دو ہزار دو میں منعقد ہوا تھا۔ جبکہ آئندہ دور سن دو ہزار سات میں چین میں ہوگا۔ | اسی بارے میں پاک چین بس سروس کا آغاز15 June, 2006 | پاکستان آزادانہ تجارت یا امریکی تسلط 15 June, 2006 | پاکستان چین عوام کو آزادی فراہم کرے: بش20 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||