سینیٹ: اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں متحدہ حزب مخالف نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک فوری طور پر بند نہیں کیا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ منگل کو معمول کی کارروائی نمٹانے کے بعد پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت نکتہ اعتراضات پر ملک بھر سے اور با الخصوص بلوچستان سے سیاسی کارکنوں کو مبینہ طور پر سیکورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں پراسرار طور پر لاپتہ ہونے، سردار اختر مینگل سمیت سیاست دانوں سے مجرموں سے بدتر سلوک کیے جانے اور وزیر اعلیٰ سرحد کے دفتر کے پاس انٹیلی جنس اہلکار کی جانب سے دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کے خلاف حزب مخالف کے اراکین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ ایوان بالا میں حزب مخالف کے قائد رضا ربانی نے کہا کہ مظلوم شہریوں کو ریاستی ادارے اغوا کر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے کمیشن نے بھی اس پر کئی بار تشویش ظاہر کی ہے کہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں جن میں زیادہ تعداد بلوچستان اور صوبہ سندھ کے سیاسی کارکنوں کی ہے۔ ان کے بقول اکبر بگٹی کی شہادت اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بعد جس طرح اختر مینگل کو ہتھکڑیاں پہنا کر عادی مجرموں سے بدتر سلوک کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا گیا اس بلوچ قوم کو بڑا غلط پیغام دیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق ایسا سلوک فاتح افواج کرتی ہیں جبکہ ان کے بقول پاکستان فوج فاتح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدام سے وفاق کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ مخصوص ٹولے نے تمام ریاستی طاقت حاصل کرلی ہے اور دن دیہاڑے وزیر اعلیٰ کے گھر میں بم رکھنے والے کو انٹیلی جنس افسر تھانے سے نکال کر لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل اور ان کے ساتھیوں سے حکومت انتقام لے رہی ہے۔ ان کے مطابق جس طرح سینکڑوں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو غائب کیا جاتا ہے یہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے اور جب تک حکومت خود قانون کا احترام نہیں کرے گی تو کوئی بھی نہیں کرے گا۔ الیاس بلور نے کہا کہ یہ ملک فوج نے نہیں بلکہ سیاسی کارکنوں نے بنایا ہے اور قائد اعظم بھی کوئی فوجی افسر نہیں سیاسی رہنما تھے۔ ان کے مطابق اس ملک میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ مجرمانہ سلوک کیا جارہا ہے اور اگر یہ سلوک بند نہیں ہوا تو یہ ملک نہیں رہے گا۔ عبدالرحیم مندو خیل، لیاقت علی بنگلزئی، ابراہیم خان اور دیگر نے کہا کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں سے ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو غائب کیا گیا ہے اور انہیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے دیا جارہا ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے کسی وزیر نے بلوچستان کے متعلق نکتہ اعتراضات کا جواب تو نہیں دیا لیکن وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ صوبہ سرحد میں اسلامی حکومت ہے جو امن امان قائم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اس لیے وہ مستعفی ہوجائے۔ | اسی بارے میں علت مشائخ، شراب اور شریعت کورٹ25 November, 2006 | پاکستان بلوچستان میں 3 ارب کا نقصان22 November, 2006 | پاکستان سینیٹ میں بجٹ پر شدید تلخی07 June, 2006 | پاکستان سینیٹ انتخاب: صحافیوں کا احتجاج06 March, 2006 | پاکستان ’بلوچستان سے نوٹ اور ہتھیار ملے‘ 07 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||