BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 November, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں 3 ارب کا نقصان

گیس پائپ لائن شدت پسندوں کے لیئے آسان ہدف ثابت ہوئی ہے
پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر مملکت نصیر مینگل نے بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں صرف گیس پائپ لائن کو ترتالیس مرتبہ دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے سوا تین ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

وقفہ سوالات کے دوران انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن امان کی صورتحال خراب ہے اور سن دو ہزار چار سے اب تک ترتالیس مرتبہ گیس پائپ لائن کو اڑایا گیا۔

ان کے مطابق مجموعی طور پر اس سے حکومت کو تین ارب اکتیس کروڑ پچاس لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔

جب اسماعیل بلیدی نے ضمنی سوال پر ان سے پوچھا کہ گیس پائپ لائن کو اڑانے کی وجوہات کیا ہیں تو وزیر نے کہا کہ آپ بھی بلوچستان سے ہیں اور حالات سے واقف ہیں۔

ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہونے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے ان میں کمی نہ کرنے پر صفدر عباسی اور دیگر نے سوالات کیے۔

جس پر پیٹرولیم کے وزیر مملکت نے واضح جواب نہیں دیا۔ تاہم انہوں نے جو تحریری معلومات پیش کئیں اس کے مطابق تیل کمپنیوں نے تین روپے فی لٹر منافع کمایا۔

ایک سوال کے جواب میں پانی اور بجلی کے وزیر لیاقت جتوئی نے ایوان کو بتایا کہ کویت سے ملنے والے قرضے سے بلوچستان کے سات سو دیہات کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کی منظوری آخری مراحل میں ہے۔

وزیر نے ایک اور سوال پر کہا کہ پاکستان میں اب پانی کی قلت نہیں ہے۔ پانی کے اخراج کو جانچنے کے نظام ’ٹیلی میٹری سسٹم‘ کے بارے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ چونتیس کروڑ روپے کے اس منصوبے کے لیے ٹھیکہ ’سیمنز‘ کمپنی کو دیا لیکن انہوں نے استعمال شدہ آلات لگادیئے جو درست کام نہیں کر رہے۔

ان کے بیان پر الیاس بلور سمیت بعض اراکین نے کہا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے اگر سیکنڈ ہینڈ آلات فراہم کیئے تو ظاہر ہے کہ پاکستان کے متعلقہ ادارے کے افسران ان سے ملے ہوئے ہوں گے۔

اس کے جواب میں وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور جو بھی ذمہ دار ہوں گے انہیں سزا ملے گی۔

اسی بارے میں
بلوچستان میں تشدد جاری
15 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد