’بلوچستان سے نوٹ اور ہتھیار ملے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعتوں نے پیر کے روز سینیٹ میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی اطمینان بخش جواب نہ ملنے پراحتجاجاً علامتی واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں بلوچستان کی صورت حال پر جاری بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے حزب اختلاف کے اراکین کی طرف سے لاپتہ افراد کے بارے میں کہا کہ گزشتہ دنوں میں چھبیس لوگ گرفتار کیئے گئے ہیں ان کے ریمانڈ عدالت میں پیش کر دیئے گئے ہیں۔ ایوان میں قائدِ حزب اختلاف رضا ربانی نے وزیرداخلہ کے جواب کے بعد تقریر کرتے ہوئے صرف بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کی دو فہرستیں ایوان میں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق بلوچستان سے تعلق رکھنے والے چھتیس افراد لاپتہ ہیں جبکہ اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے اکھٹے کیئے گئے اعداد دشمار کے مطابق پچاس سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ثنا اللہ بلوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی سزا اُن کے بھائیوں کو دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائیوں کو اٹھا لیا گیا ہے اور ان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ رضا ربانی نے حکومت پر زور دے کر کہا کہ جن لوگوں کو حکومتی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے ان کے بارے میں اُن کے رشتہ داروں کو تفصیلات مہیا کی جانی چاہئیں۔
اس سے قبل وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں اپنی حاکمیتِ اعلٰی بحال کر کے رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے جس میں سام میزائل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا اس کے علاوہ مختلف قسم کے بھاری ہتھیار جن میں ملٹی بیرل میزائل بھی شامل ہیں قبضے میں لیئے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہتھیاروں کے علاوہ حکومتی اداروں کو نوٹوں سے بھرے ہوئے بکس بھی ملے ہیں۔ آفتاب شیر پاؤ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ آخر یہ پیسہ اور اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومتی اہلکاروں پر میزائل داغے جائیں گے تو ان کا جواب بھی اسی شدت سے دینا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیئے بڑے بڑے منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور وہ بلوچستان کی پسماندگی کو دور کرنا چاہتی ہے۔ |
اسی بارے میں ملتان: نو بچوں کا والد لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان پاکستان: سندھ میں ایک صحافی لاپتہ08 July, 2006 | پاکستان لاپتہ سائنسداں: حکومت کو مہلت06 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانی: بی بی سی کی ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||