BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 November, 2006, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
علت مشائخ، شراب اور شریعت کورٹ

پاکستانی سینیٹ
ایوان بالا نے حدود قوانین میں ترمیم کی اجازت دے دی
پاکستان میں گزشتہ ہفتے کی سرگرمیوں کو اگر دیکھا جائے تو ربع صدی سے متنازعہ بنے ہوئے حدود قوانین میں ترمیم کی منظوری اور چین کے صدر ہوجنتاؤ کا دورہ دو بڑے واقعات نظر آتے ہیں۔

حدود بل میں ترمیم جیسے اہم موضوع پر جب ایوان بالا یعنی سینیٹ میں انتہائی سنجیدہ بحث ہو رہی تھی تو اس دوران بعض مواقع پر علت مشائخ، شراب اور شریعت کورٹ کا بھی ذکر چل نکلا۔

بحث کے دوران جب حکومتی سینیٹر گلزار نے حدود بل کی مخالفت کرنے والے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے شعبے میں ڈگری رکھتے ہیں لیکن انہیں لفظ ’ لونڈیا‘ اور ’علت مشائخ‘ کا مطلب نہیں آتا۔

انہوں نے جب علماء سے وضاحت کی درخواست کی تو مولانا گل نصیب نے انہیں مذاق میں کہا کہ علت مشائخ کو سمجھنے کے لیے انہیں کسی مدرسے میں ٹہرنا ہو گا۔

حدود قوانین میں ترمیم کے بل پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر قانون وصی ظفر نے مذہبی جماعتوں کے اراکین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام کے اکابرین نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں عوام پسند نہیں کرتے تھے اور ملک بننے سے بیس برس تک وہ اقتداری ایوانوں سے دور رہے۔

وصی ظفر کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں آئین متفقہ طور پر منظور کرانے کی خاطر مولویوں نے مرزائیوں کو کافر اور شراب کو حرام قرار دلوایا۔ وزیر کے مطابق پاکستان میں شراب پر پابندی ریاست کے لیے کوئی اچھا فیصلہ نہیں تھا اور اس سے ملک میں منشیات کا استعمال بڑھنا شروع ہوا۔

علت مشائخ، شراب اور شریعت کورٹ
 بحث کے دوران جب حکومتی سینیٹر گلزار نے حدود بل کی مخالفت کرنے والے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے شعبے میں ڈگری رکھتے ہیں لیکن انہیں لفظ ’ لونڈیا‘ اور ’علت مشائخ‘ کا مطلب نہیں آتا۔

وزیر نے شریعت کورٹ کے قیام کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ شرعی عدالت کو پارلیمان سے زیادہ اختیار حاصل ہے جوکہ آئینی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پارلیمان کوئی قانون منظور کرلے تو اُسے اسلام کے منافی ہونے کی بنا پر شریعت کورٹ رد کرسکتی ہے۔ انہوں نے دلیل یہ کہنے کے لیے پیش کی کہ اگر کسی کو حدود قوانین میں ترمیم پر اعتراض ہے تو شرعی عدالت سے رجوع کرے۔

خیر بل منظور ہوگیا اور پاکستان کے کئی جمہوریت پسند حاضر سروس فوجی صدر کے زیر سایہ حکومت کے ٹی وی چینلز پراس کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا مطالبہ حدود قوانین کی تنسیخ ہے مگراس ترمیم کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس سے آئندہ کے لیے ایک راستہ کھلا ہے۔

حکومت کے منظور کرائے گئے اس قانون کو غیر اسلامی کہنے والی مذہبی جماعتوں نے اس کے خلاف جمعہ کو احتجاج کی اپیل کی لیکن اتنا رد عمل دیکھنے کو نہیں ملا جتنا توقع کی جارہی تھی۔ اسلام آباد میں ایک مظاہرہ ضرور ہوا جس میں چند سو افراد شریک ہوئے اور ان میں زیادہ تعداد مدارس کے طلباء کی تھی۔

سنیچر کو ختم ہونے والے ہفتے کا دوسرا بڑا واقعہ چین کے صدر کا دورہ ہے جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ چین پاکستان کو مزید سویلین نیوکلیئر ری ایکٹر دے گا اور بڑا اعلان متوقع ہے۔ فریقین کی بات چیت کے بعد اس بارے میں کوئی اعلان تو نہیں ہوا لیکن چینی صدر نے کہا کہ اس شعبے میں وہ پاکستان سے پہلے ہی تعاون کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔

ان کی اس بات سے بعض تـجزیہ نگار یہ موقف اخذ کر رہے ہیں کہ چین پاکستان کی جس طرح ماضی میں عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود پاکستان کے جوہری پروگرام کے لیے مکمل تعاون کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرے گا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بڑا اعلان کرکے چین امریکہ اور اپنے پڑوسی بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا کیونکہ چین نے بھارت کے ساتھ دوستی بڑھانے کے لیے پیش رفت کی ہے۔

اسی بارے میں
سیمینار: حکومت کی عدم شرکت
24 November, 2006 | پاکستان
حقوق نسواں بل سینیٹ سے منظور
23 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد