BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 November, 2006, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شدت پسندی ترقی کی راہ میں رکاوٹ‘

 ہُو جنتاؤ
جوہری شعبے میں تعاون کرتے رہیں گے: ہُو جنتاؤ
چین کے صدر ہُو جنتاؤ نے دہشت گردی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ شدت پسندی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے۔

چینی صدر نے شام کو اسلام آباد میں کنوینشن سینٹر سے براہ راست پاکستانی عوام سے خطاب کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی بحر ہند سے گہری، ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلیں بھی اس دوستی کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے پانچ برس تک پانچ سو پاکستانی نوجوانوں کو چین بلانے کے پروگرام کا اعلان بھی کیا۔

کنوینشن سینٹر میں منعقد تقریب میں صدر مشرف نے اپنے استقبالی کلمات میں کہا کہ چین جتنا مضبوط ہوگا اتنا پاکستان مضبوط ہوگا۔ انہوں نے بعد میں چینی صدر ہو جن تاؤ کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان پاکستان بھی دیا۔

اس سے قبل چین کے صدر ہُو جنتاؤ نے کہا کہ چین پاکستان کی جوہری توانائی کی صنعت میں تعاون جاری رکھے گا لیکن انہوں نے اس سلسلہ میں کسی نئی ڈیل یا معاہدہ کا اعلان نہیں کیا۔

پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ بات چیت کے بعد اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں چینی صدر نے یہ بھی کہا کہ پن بجلی، کوئلے اور توانائی کے دوسرے متبادل ذرائع کے سلسلے میں بھی پاکستان کی مدد کی جائے گی۔
صدر ہُو جنتاؤ نے کہا کہ چین نے چشمہ کے جوہری بجلی کے پلانٹ کی تعمیر میں پاکستان کے ساتھ ’انتہائی قریبی تعاون‘ کیا اور اب ایک دوسرے پلانٹ کی تعمیر میں بھی چین پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔

چین کے صدر ہُوجنتاؤ نے جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی ہے

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جس طرح میڈیا میں جوہری پروگرام کے بارے میں نئے معاہدے کے امکان کو اہمیت دی جارہی تھی بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے کو فریقین جان بوجھ کر غیر اہم ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی وجہ بھارت کے ساتھ چین کی دوستی بڑھانا بھی ہوسکتی ہے۔

چین کے صدر ہُوجنتاؤ نے جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور بعد میں ان کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیاں آزادانہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں تیس سے زائد معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے آئندہ پانچ برسوں میں قابل عمل ہوں گے۔

چین اور پاکستان میں پانچ سالہ اقتصادی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری، تیل کی تلاش، گوادر بندرگاہ کے پہلے مرحلے کی تکمیل اور اُسے پاکستان کے حوالے کرنے، زلزلہ زدہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے، دفاع، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر شعبوں میں تعاون کے متعلق بھی معاہدوں اور مفاہمت کے یاداشت ناموں پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان حکومت آزادانہ تجارت کے معاہدے کو چینی صدر کے دورے کا ایک اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے اور ان کے مطابق اس سے مستقبل میں سالانہ دوطرفہ تجارت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوگا۔

دونوں صدور نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں کہا کہ پچپن سالہ سفارتی تعلقات کے جشن کے موقع پر ان کے درمیاں تمام عالمی، علاقائی اور دو طرفہ امور پر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اکیسویں صدی اقتصادی ترقی کی صدی ہے اور یہی وجہ ہے کہ چینی صدر سے بات چیت کا محور اقتصادی تعاون پر مرکوز رہا۔ ان کے مطابق دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جو کہ دونوں ممالک میں پائیدار اور دیرینہ تعلقات کو یقینی بنائیں گے۔

پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہری جوہری پروگرام کے لیے تعاون کے متعلق چینی صدر نے کہا کہ اس شعبے میں وہ پہلے ہی پاکستان سے تعاون کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ تاہم ان کے مطابق چین پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پن بجلی (ہائیڈل)، کوئلے اور دیگر وسائل پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

پاک انڈیا تعلقات
 چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کو فروغ ملے۔ برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے چین اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ہُو جنتاؤ

مشترکہ نیوز بریفنگ میں چین کے صدر نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے چین اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایک سوال پر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات سے صورتحال بہتر ہوئی ہے اور عوام کے درمیان مختلف فورمز پر رابطہ بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت سنجیدگی سے بات چیت آگے بڑھا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام اور قیادت کی خواہش ہے کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت سے حل کیے جائیں۔

واضح رہے کہ چین کے صدر بھارت کا دورہ کرنے کے بعد چار روزہ دورے پر تئیس نومبر کی سہ پہر اسلام آباد پہنچے تھے۔

چین کے صدر سنیچر کو لاہور جائیں گے اور امکان ہے کہ وہ گوادر کی بندرگاہ کا افتتاح بھی کریں لیکن اس بارے میں حکام کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں۔

اسی بارے میں
پاک چین دو دفاعی معاہدے
16 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد