BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 November, 2006, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اپنے مفادات کا خیال رکھیں گے‘

 بش، منموہن
یہ ہندوستان کے لیے ایک تاریخی تبدیلی ہے: امریکی سفیر
ہندوستان نے امریکی سینیٹ میں ہند۔امریکہ جوہری معاہدے کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اصل معاہدے میں ہندوستان کے مفادات کا پورا خیال رکھا جائے گا جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے صدر جارج بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اس معاہدے کو اس مقام تک لانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دسمبر میں جب اس معاہد ے کو آخری شکل دی جائے تو ہندوستان کی ان شرائط کو مد نظر رکھا جائے جن پر گزشتہ جولائی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور صدر جارج بش کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔

ہندوستان میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفرڈ نے ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ’ہندوستان اور امریکہ کے درمیان گہرے رشتوں کا ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘ مسٹر ملفرڈ نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں بعض پیچیدگیاں ہیں اور امریکہ حتمی معاہدے میں ان پیچیدگیوں سمیت اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس معاہدے کے بعد ہندوستان ایک نیوکلیئر طاقت بن کر ابھرے گا، مسٹر ملفرڈ نے نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد ہندوستان ایک مضبوط عالمی طاقت بن کر سامنے آئے گا۔ اس معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری ملکوں کی صفوں میں الگ تھلگ نہیں رہے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عالمی طاقتوں کا حصہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ ہندوستان کے لیے ایک تاریخی تبدیلی ہے۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد ہم حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے مفادات کا پورا خیال رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے ملک کا سلامتی کا نظام بہت حساس ہے اس لیے ہمیں اپنے دفاع کے لیے احتیاطی طور پر جو جوہری طاقت بچا کر رکھنے کا حق ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔‘

حکمراں جماعت یو پی اے کی چیئر پرسن سونیا گاندھی نے اس معاہدے پر خوشی کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہوئے بنیادی سمجھوتے سے باہر کوئی بھی شرط ہندوستان نہیں مانے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد