جوہری پروگرام آزاد ہے: منموہن سنگھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے بارے میں حزب اختلاف کے ان اندیشوں کو مسترد کر دیا ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کا جوہری پروگرام امریکہ کا تابع ہو جائے گا۔ مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا فوجی جوہری پروگرام اور پالیسی پوری طرح آزاد ہیں اور اس معاہدے کے دائرے سے باہر رہیں گے۔ پارلیمنٹ میں ہند امریکہ معاہدے پر ایک بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کو توانائی کی سخت ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں جوہری توانائی کا حصول ہی سب سے عملی اور بہتر طریقہ ہے۔ مسٹر سنگھ نے اپنے طویل جواب میں کہا کہ ہند امریکہ معاہدے کے اصل مسودے سے کوئی انحراف نہیں کیا گیا ہے اور کسی طرح کا انحراف ہندوستان کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے ملک کی فوجی نوعیت کی جوہری تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’ہم نے امریکہ او واضح طور پر بتا دیا ہے ہندوستان کا دفاعی نوعیت کا جوہری پروگرام ہند امریکہ معاہدے کے دائرے سے قطعی طور پر باہر ہے اور ہم کسی بھی ایسے قانون کی مخالفت کریں گے جس سے ہماری دفاعی اور معاہدے سے باہر کی دوسری تنصیبات کی معائنے کی بات کی گئی ہو۔‘ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنے پروگرام کے سلسلے میں پوری طرح آزاد ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم اپنے دفاعی جوہری پروگرام کی ترقی میں کسی بھی ملک کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ ہم کسی باہری ایجسنی کو اپنے فوجی تنصیبات کے معائنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔‘ اس سے قبل بحث کے دوران حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی کے رہنما یشونت سنہا نے کہا تھا کہ بنیادی معاہدے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’مستقبل میں انحراف کی بات چھوڑیے انحراف تو پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ ہم پہلے ہی فوجی اور غیر فوجی تنصیبات کی علحیدگی کے پہلو کو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ جن ممالک کو جوہری ممالک مانا گیا ہے ان پر انکا اطلاق نہیں ہوتا۔‘ وزير اعظم نے امریکہ سے جوہری تعاون کے معاہدے کے بارے میں نکتہ بہ نکتہ جواب دیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں اپنی مستقبل کی ضروریات کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا خواہ امریکہ سے معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اور ملک کے سرکردہ جوہری سانسدانوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ سے جوہری معاہدے کرنے میں ایسے کسی ضابطے کو قبول نہ کرے جس سے ملک کی مستقبل کی فوجی ضروریات متاثر ہوتی ہوں۔ | اسی بارے میں کوئی شرط قبول نہیں: منموہن 26 July, 2006 | انڈیا ہمیں کوئی جھکا نہیں سکتا: منموہن12 July, 2006 | انڈیا امریکی قوانین میں تبدیلی پر بحث27 April, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ16 August, 2006 | انڈیا دہشت گردی سے مذاکرات کمزور15 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||