BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی قوانین میں تبدیلی پر بحث

امریکی سینیٹ
کمیٹی سماعت کے بعد اپنی مکمل رپورٹ سینیٹ کو پیش کرے گی
امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ میں امریکی صدر جارج بش کے بھارت سے کیئے گئے جوہری معاہدے، اور اس پر عملدرآمد کے لیئے امریکی قوانین میں ضروری تبدیلی کے بل پر سماعت ہوئی۔

بدھ کو اس سماعت میں آٹھ ماہرین نے اس بل اور معاہدے کے حق میں یا خلاف اپنی اپنی رائے پیش کی اور کمیٹی ممبران کے سوالات کا جواب دیا۔ ان ماہرین میں ’کارنیگی اینڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ کے بھارتی نژاد ڈاکٹر ایشلی ٹیلس بھی شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک طرح سے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ لکھا ہے۔

امریکی سینیٹ میں بل S.2429 مارچ کے وسط میں پیش ہوا تھا جسے سماعت کے لیے کمیٹی برائے امور خارجہ میں بھیج دیا گیا تھا۔ کمیٹی سماعت کے بعد اپنی مکمل رپورٹ سینیٹ کو پیش کرے گی جس کے بعد سینیٹ میں اس بل پر ووٹنگ ہوگی۔ کچھ اسی طرح کا عمل امریکی ایوان نمائندگان میں بھی ہوگا۔

کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر رچرڈ لوگر نے سماعت کی ابتدا میں کہا کہ بھارت سے امریکہ کے تعلقات بے حد اہم ہیں کیونکہ دونوں ممالک مشترکہ جمہوری اقدار کے پاسدار ہیں اور ان کے درمیان معاشی تعاون کے لامتناہی امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات بھی اس بات کی متقاضی ہیں کہ دونوں ممالک میں تعاون ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کا مفاد اسی میں ہے کہ بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھائے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کی دریافت، توانائی کی سپلائی میں تواتر، (ماحول کو آلودہ کرنے والی ) گرین ہاؤس گیسوں پر کنٹرول اور دنیا میں خام ایندھن کی کم ہوتی ہوئی مقدار پر قابو پایا جا سکے‘۔

امریکی صدر بش انڈین وزیرِاعظم منموہن کے ہمراہ

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے بھارت، چین اور دیگر تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون نہ کیا تو اس شعبے میں ہماری اپنی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

دوسری طرف سینیٹر لوگر نے یہ بھی کہا کہ چونکہ بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیئے اور جوہری ہتھیار بنانے میں سرگرم ہے اس لیئے اس کے ساتھ کوئی بھی جوہری معاہدہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ اس سے کئی دہائی کی امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔

بش انتظامیہ کی کوشش ہے کہ امریکی کانگریس جون سے پہلے پہلے اس بل کو منظور کر لے۔ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اگر مئی کے آخر تک یہ بل منظور نہ ہوا تو جون میں کانگریس چھٹیوں پر چلی جائے گی اور چھٹیوں سے واپس آتے ہی تمام ارکان انتخابی عمل میں مصروف ہو جائیں گے۔

امریکی انتظامیہ اور بھارت دونوں ہی نہیں چاہتے کہ یہ بات اگلی کانگریس تک ٹلے کیونکہ ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی مشکلات کا شکار ہے۔ ادھر امریکی قانون کے مطابق اگر چھٹیاں نکال کر نوے دن تک امریکی کانگریس کسی بل کو رد، منظور یا تبدیل نہیں کرتی تو وہ خود بخود قانون بن جاتا ہے۔

موجودہ قوانین کے مطابق امریکہ صرف ان ممالک کو سویلین جوہری ٹیکنالوجی یا مواد فراہم کر سکتا ہے جو اپنی تمام جوہری تنصیبات کو جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی میں دے دیں۔ بھارت اپنی صرف پینسٹھ فیصد یا بائیس میں سے چودہ تنصیبات کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں دینے کو تیار ہے۔

کمیٹی کے سامنے اپنی رائے دیتے ہوئے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایڈمنڈ اے والش سکول آف فارن سروس کے ڈین رابرٹ ایل گیلوچی نے کہا کہ بھارت کےساتھ معاہدہ اپنی موجودہ حالت میں امریکہ اور دنیا کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ معاہدہ اس صورت میں کرنا چاہیے جب بھارت اپنی تمام جوہری تنصیبات کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں دینے پر تیار ہو اور مستقبل میں جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو جائے۔

 بھارت نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیئے اور جوہری ہتھیار بنانے میں سرگرم ہے اس لیئے اس کے ساتھ کوئی بھی جوہری معاہدہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ اس سے کئی دہائی کی امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔
سینیٹر لوگر

جبکہ کارنیگی اینڈاؤمنٹ کے مسٹر ٹیلس نے بھارت اور امریکہ کے قریبی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بل کے حق میں دلائل دیے اور کہا کہ بھارت نے کبھی ایٹمی توانائی کسی دوسرے ملک کو منتقل نہیں کی لیکن یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا اور اس میں کسی عالمی معاہدے کا دخل نہیں تھا۔ اس لیے ایک تو بھارت کو ایٹمی عدم پھیلاؤ پر کارفرما رہنے کا انعام ملنا چاہیے اور دوسرا اس معاہدے کے ذریعے بھارتی سویلین جوہری پروگرام کو عالمی ایٹمی اداروں کا پابند کر کے مستقبل میں پھیلاؤ کے خطرے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ میں کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کو جوہری عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں میں شامل کرنے سے امریکہ کو ایک ایسا ساتھی مل جائے گا جو خطے میں استحکام پیدا کرنے اور ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلے کرنے میں مددگار ہوگا لیکن اس بل کے ناقدین کہتے ہیں کہ بھارت نے اس سے پہلے بھی کینیڈا اور امریکہ سے وعدے کیے تھے کہ ان کا فراہم کردہ مواد صرف غیر فوجی استعمال کے لیے ہوگا لیکن 1974 میں بھارت نے اس کو استعمال کرکے جوہری دھماکہ کیا اور جوہری ہتھیار بنائے۔ اس لیے اس کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مستقبل میں بھارت غیر فوجی استعمال کے لیے فراہم کردہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کو فوجی استعمال میں نہیں لائے گا۔

یہ بات بھی کچھ ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ اگرچہ بھارت نے آئندہ جوہری دھماکے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ امریکہ کے ساتھ معاہدے میں اس شق کو شامل کرنے پر تیار نہیں اور نہ ہی جوہری دھماکوں پر پابندی کے عالمی معاہدے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کو تیار ہے۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بھارت کا ایکسپورٹ کنٹرول سسٹم بہت محفوظ نہیں اور جوہری مواد کے حصول کے لیے بھارت جو ذرائع استعمال کرتا ہے اس سے جوہری راز کسی تیسری پارٹی کے ہاتھ لگ جانے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد