BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 March, 2006, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رشتوں میں دراڑ آ سکتی ہے: شیام
شیام سرن آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں
انڈین خارجہ سیکریٹری شیام سرن آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں
انڈیا کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن کا کہنا ہے کہ اگر جوہری معاہدے پر عمل نہ ہوا تو امریکہ اور بھارت کے رشتے خراب ہو سکتے ہیں۔

نیوکلائی معاہدے پر امریکی حکام سے مزید بات چیت کے لیے واشنگٹن کے دورے پر آئے ہوئے انڈیا کے خارجہ سیکریٹری نے امریکی قانون سازوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ’بیک وقت بھارت حلیف بھی ہو اور نشانے کی زد میں بھی ہو‘۔

شیام سرن نے کہا کہ اگر’اس معاہدے پر عمل نہ ہوا تو امریکہ اور انڈیا کے رشتوں میں دراڑ پڑ سکتی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر چيز پر اس کے خراب اثرات مرتب ہوں گے لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس معاہدے پر خاص طور سے سبھی کی توجہ مرکوز ہے اس لیے ہمیں اچھا لگے یا نہ لگے امریکہ اور بھارت کے رشتوں سے ہمیں جو بھی کچھ کرنا ہے یہ معاہدہ اسی کی علامت بن چکا ہے‘۔

شیام سرن نے کہا کہ اگر بھارت سے یہ امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرے تو’یہ بالکل مناسب ہے کہ اتنی اچھے ریکارڈ کے حامل ملک کی توانائی کی ضروریات کو تسلیم کیا جائے‘۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ جوہری امور میں اس کا ریکارڈ بڑا محتاط اور ذمہ دارنہ رہا ہے اور اس خدشے کی کوئی وجہ نہیں ہےکہ محض سویلین مقاصد کے لیے جوہری معاہدے پر عمل سے وہ زیادہ سے زیادہ جوہری ہتھیار بنائےگا۔

اس ماہ کے پہلے ہفتے میں امریکی صدر جارج بش کے دورۂ انڈیا پر امریکہ اور انڈیا نے جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت انڈیا کو اپنی جوہری تنصیبات کی نشاندہی فوجی اور غیر فوجی تنصیبات کے طور پر کرنا ہے جس کے بعد غیر فوجی تنصیبات بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے معائنے کے دائرے میں آ جائیں گی۔

اس معاہدے کے نفاذ کے لیئے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہے لیکن امریکہ میں اس معاہدے کے مخالفین کی کمی نہیں ہے۔ اس معاہدے پر نکتہ چینی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سےانڈیا کو بڑی تعداد میں جوہری ہتھیار بنانے میں مدد ملےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد