جوہری معاہدے پر صلاح و مشورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کے کئی سرکردہ جوہری سائنسدانوں سے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مختلف پہلوؤں پرصلاح و مشورہ کیا ہے۔ مسٹر سنگھ جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس معاہدے پر ایک بیان دینے والے ہیں۔ ملک کے کئی سرکردہ سائنسدانوں نے امریکہ سے جوہری تعاون کے اس معاہدے کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اگر اس معاہدے پر عمل درآمد ہوا تو اس سے ملک کی جوہری تحقیق اور ترقی کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اصل معاہدے کے متن سے انحراف کر رہا ہے۔ بائیں بازو کے اتحادی اور حزب اختلاف کی جماعتیں جوہری معاہدے پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 18 جولائی کے اصل معاہدے کو ہی تسلیم کرے گی اور کسی بھی حالت میں ملک کی بنیادی جوہری پالیسی اور آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مسٹر سنگھ نے بدھ کو اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین انل کاکوڈکر، سائنسی مشیر آر چدامبرم، قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن، پرنسپل سیکرٹری ٹی کے اے نائر اور خارجہ سیکرٹری شیام سرن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک جوہری سوالوں پر صلاح و مشورہ کیا۔ اجلاس کے بعد خارجہ امور کے وزیر مملکت آنند شرما نے بتایا کہ یہ ’جائزے کی ایک باضابطہ میٹنگ تھی‘۔ ملک کے بعض سائنسدانوں نے پیر کو ارکان پارلیمان کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ حکومت کو کسی بھی معاہدے میں چار بنیادی سوالوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو بین الاقوامی معائنے سے باہر رکھا جائے۔ دوسرے وہ جوہری ری ایکٹرز جو دیسی ٹیکنالوجی سے بنے ہیں انہیں بھی بین الاقوامی معائنے کے دائرے سے باہر رکھا جائے۔ جوہری تحقیق و ترقی کے ملکی ادارے پوری طرح آزاد ہوں اور پارلیمنٹ اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کرے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ حکومت صدر جارج بش اور منموہن سنگھ کے 18 جولائی کے اصل بیان سے منحرف نہیں ہوگی۔ حال میں امریکہ کے ایوان نمائندگان نے جوہری معاہدے میں بعض نئی شقیں شامل کی تھیں اور یہ سائنسدان چاہتے ہیں ان شقوں کو کسی بھی طرح قبول نہ کیا جائے کیونکہ بقول ان کے اس سے ہندوستان کی جوہری پالیسی امریکہ کے تابع ہو کر رہ جائے گی۔ وزیر اعظم ان شقوں کے بارے میں صدر بش سے اپنی تشویش کا پہلے ہی اظہار کر چکے ہیں۔ جوہری توانائی کے غیر فوجی شعبے میں اس معاہدے کے تحت ہندوستان کو امریکہ کی نیوکلیائی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائے گی جبکہ اس کے بدلے ہندوستان کے بیشتر جوہری ری ایکٹرز بین الاقوامی معائنے کے لیئے کھول دیے جائیں گے۔ ہندوستان میں اس معاہدے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے ہندوستان کو جوہری بم بنانے کے لیئے مطلوبہ یورینیم نہیں مل پائے گی اور ساتھ ہی مستقبل میں ضرورت پڑنے پر جوہری تجربے بھی نہیں کیئے جا سکیں گے۔ نئی شقوں کے بارے میں حکومت کا یہ کہنا رہا ہے کہ ان کا تعلق امریکہ کی داخلی ضروریات سے ہے اور اگر وہ بھارت کے مفادات سے متصادم ہوئیں تو ہندوستان اپنےفیصلے کرنے کے لیئے آزاد ہوگا۔ معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کو توانائی کی شدید ضرورت ہے اور ہندوستان علیحدگی میں کچھ نہیں حاصل کرسکے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ تیس برسوں میں ہندوستان اپنے ری ایکٹرز سے پانچ سو میگاواٹ بجلی بھی نہیں پیدا کر سکا ہے اور اب جوہری بم نہیں جوہری توانائی کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں جوہری معاہدہ: میڈیا کا رد عمل28 July, 2006 | انڈیا انڈیا: یومِ آزادی، حملوں کا خطرہ 12 August, 2006 | انڈیا انڈیا کا مواصلاتی سیارہ گر کر تباہ 10 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||