انڈیا: یومِ آزادی، حملوں کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں پولیس کا کہنا ہے کہ پندرہ اگست کو یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے کا خطرہ ہے اس لیے حفاظتی بند و بست مزید سخت کر دیۓ گیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے نشانے پر سرکردہ سیاسی شخصیات اور اہم سرکاری دفاتر و تنصیبات ہیں۔ دلی میں ایک سینئر پولیس افسر اجۓ چڈھا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ شدت پسندوں کے حملوں کے متعلق انٹیلیجنس ذرائع سے بعض خصوصی اطلاعات ملی ہیں اسی لیے ’دلی کے ائر پورٹ، پارلیمنٹ، ریلوے سٹیشن، بس، میٹرو سٹیشن، سنیما ہال اور بھیڑ بھاڑ والے بازاروں جیسے حساس علاقوں کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے‘۔ پولیس کا کہنا ہے پندرہ اگست کو یوم آزادی کے موقع پر دلی میں حفاظتی بند و بست کے لیئے تقریبا دس ہزار پولیس عملے کو تعینات کیا جائیگا اور اسکے لیئے تمام تیاریاں پوری کر لی گئی ہيں۔ مسٹر چڈھا کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق شدت پسندوں کے نشانے پر ’اہم سرکاری دفاتر، تنصیبات اور سرکردہ سیاسی شخصیات ہیں‘۔ یوم آزادی کے دوسرے روز ملک میں جنم آشٹمی کا تہوار ہے اور پولیس کا کہنا ہے مندر سمیت کئی مذہبی مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ چندر روز قبل سلامتی کے بارے میں اس طرح کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ ملک کی جوہری تنصیبات شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ حکومت نے ممبئی کے بھابھا ایٹمی ریسرچ اور چینائی کے کلپکّم جیسی جوہری تنصیبات کی حفاظت کے لیے خصوصی کمانڈو تعینات کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا یوم آزادی: اٹھارہ ہلاک، چودہ زخمی15 August, 2004 | انڈیا 57 سال سے جلتی ہوئی آزادی کی آگ 25 December, 2004 | انڈیا آزادی ریلی میں دھماکہ، پندرہ ہلاک15 August, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||