امریکہ سے عالمی امن کو خطرہ ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ اور مسلمان ملکوں میں لوگ ایران کے جوہری پروگرام سے زیادہ عراق کے بارے میں امریکی پالیسی کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ پیؤ ریسرچ گروپ کی جانب سے کرائے جانے والے سروے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی صدر جارج بش کی حمایت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ سروے کے مطابق 2004 میں سونامی سے متاثرہ ملکوں کی مدد کرنے سے امریکہ کو جو نیک نامی ملی تھی وہ بھی اب ختم ہو رہی ہے۔ اس سروے میں دنیا کے پندرہ ملکوں سے سترہ ہزار لوگوں سے سوال پوچھے گئے تھے۔ سروے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان ممالک جہاں ایک سال پہلے امریکہ کی ساکھ نسبتاً بہتر تھی اب وہاں بھی خراب ہو رہی ہے۔ ایسے ممالک میں انڈیا، سپین اور ترکی شامل ہیں۔ سروے کے مطابق انڈیا میں امریکی نیک نامی اکہتر فیصد سے گر کر اکاون فیصد تک پہنچ گئی ہےجبکہ سپین میں اکتالیس فیصد سے گر کر تیئس فیصد رہ گئی ہے۔ اسی طرح ترکی میں امریکی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے جہاں اب سو میں صرف بارہ لوگ امریکی پالیسوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق امریکہ سے باہر چودہ میں سے دس لوگوں کا خیال ہے کہ عراق پر امریکی حملے کی وجہ دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ جگہ بن گئی ہے۔ امریکہ کے سب بڑا اتحادی ملک برطانیہ میں ساٹھ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ جگہ بن کر رہ گئی ہے۔ البتہ تیس فیصد کا خیال ہے کہ عراق جنگ کی وجہ دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ جگہ بنی ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت میں اضافہ نہیں بلکہ کچھ کمی آئی ہے اور لوگوں کی اکثریت کا خیال ہےکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ یورپی ممالک میں امریکی صدر جارج بش پر اعتبار کرنے والے لوگوں کی تعداد پچھلے سال سے کم ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو ایران کے جوہری پروگرام سے تشویش ہے لیکن مسلمان ملکوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے تشویش نہیں پائی جاتی ہے۔ سروے میں شامل کیے گئے لوگوں میں چھیالیس فیصد کا خیال ہے کہ ایران کی موجودہ قیادت مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ | اسی بارے میں بش کا مستقبل جنگ سے وابستہ15 December, 2005 | آس پاس مکمل فتح سے کم کچھ بھی نہیں: بش30 November, 2005 | آس پاس ’یہ امریکی سلامتی کے ضامن ہیں‘05 March, 2006 | آس پاس پیٹریاٹ ایکٹ، قانون بن گیا10 March, 2006 | آس پاس حملے کرنے کا حق محفوظ: امریکہ17 March, 2006 | آس پاس امریکی عوام صبر سے کام لیں: بش18 March, 2006 | آس پاس عراق میں خانہ جنگی نہیں: بش21 March, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ مستعفی نہیں ہوں گے: بش15 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||