’یہ امریکی سلامتی کے ضامن ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بُش نے ریڈیو پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں اپنے جنوبی ایشیاء کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، پاکستان اور افغانستان سے تعلقات امریکی سلامتی کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے اس دورے کے پہلے پڑاؤ افغانستان کے بارے میں کہا کہ وہ وہاں پچھلے چند سالوں میں ہونے والی تبدیلی دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر سے پہلے افغانستان پر ایسے ظالموں کی حکمرانی تھی جو اپنے ہی عوام کو دباتے تھے، عورتوں پر ظلم ڈھاتے تھے اور جنہوں نے امریکہ پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دی ۔ صدر بش نے کہا کہ آج افغانستان میں دہشت گردی کے کیمپ بند ہو چکے ہیں، لڑکے لڑکیوں نے سکول جانا شروع کر دیا ہے اور ملک کے ڈھائی کروڑ عوام کو آزادی ملی ہے۔ صدر بش نے امریکی عوام کو بتایا کہ انہوں نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ ایک آزاد معاشرے کے قیام اور دونوں ممالک کے مشترکہ دشمنوں کے خاتمے تک افغان عوام کے ساتھ ہے۔ صدر بش کے دورے میں دوسرا پڑاؤ بھارت میں تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ بہت ملتے جلتے ہیں۔ بھارت نے بھی ’دہشت گردوں‘ کے حملے سہے ہیں اور امریکہ ہی کی طرح بھارت ایک ایسا جمہوری ملک ہے جسے علم ہے کہ اگر امن قائم کرنا ہے تو آزادی کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی لیے بھارت، صدر بش کے مطابق افغانستان جیسے ممالک میں آزاد جمہوری معاشرے کے قیام میں مدد دے رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات بے حد خوش گوار ہیں۔ اور اس کا ایک رخ ہے توانائی کے شعبے میں دونوں ملکوں کا تعاون۔ صدر بش نے بھارت سے سویلین جوہری توانائی کے معاہدے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ یہ معاہدہ جتنا بھارت کے لیے مفید ہے اتنا ہی امریکہ کے لیے بھی۔ انہوں نے کہا کہ’اس معاہدے سے بھارت کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ جس سے بھارت توانائی کے دوسرے ذریعوں کا استعمال کم کرے گا اور امریکی صارفین کو کم قیمت پر توانائی میسر ہوگی‘۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے کہا کہ بھارت امریکی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی ہے۔ صدر بش نے پچھلے دس سالوں میں بھارتی تجارتی اصلاحات کی تعریف کی اور کہا کہ بھارت نے ان اصلاحات کے ذریعے تجارت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں یہ بات واضح کر دی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت آزادانہ اور منصفانہ بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ امریکی صدر بش کے دورے میں آخری پڑاؤ پاکستان تھا۔ جس کے بارے میں صدر بش نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ کا ساتھ اور دہشت گردی کی مخالفت کرنے کا درست فیصلہ کیا۔ اور یہ کہ صدر مشرف کو اندازہ ہے کہ ’دہشت گرد‘ دنیا ہی نہیں پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ صدر بش کے اس دورے میں بھارت کے ساتھ جوہری توانائی کا معاہدہ سب سے اہم معاملہ تھا جو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہے۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ کو ابھی شکست دینی ہے‘04 March, 2006 | پاکستان ’بش کو دستاویزی ثبوت دیئے ہیں‘04 March, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سے کچھ نہیں ملا‘04 March, 2006 | پاکستان موضوع ’انتہا پسند اسلام‘ ہوگا04 March, 2006 | پاکستان خواتین کے وفود کے تبادلے پر بات چیت04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||