’بش کو دستاویزی ثبوت دیئے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ امریکی صدر جارج بش اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان افغانستان سے سرحد پار در اندازی کے مسئلے پر کھل کر بات چیت ہوئی ہے اور صدر مشرف نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ امریکی صدر کو یہ باور کروایا ہے کہ پاکستان سرحد پار در اندازی روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اکثر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستانی علاقے سے لوگ افغانستان میں داخل ہوکر دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ خورشید قصوری اسلام آباد میں امریکی صدر اور پاکستانی صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس وقت پھٹ پڑے جب ایک امریکی صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ افغانستان اور بھارت کی حکومتیں پاکستان پر سرحد پار در اندازی کا الزام لگاتی آئی ہیں تو پاکستان اس بارے میں کیا کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ پاکستان پر در اندازی کے الزام غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ایک لاکھ تیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں پھر بھی وہاں روز دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں جن میں درجنوں افراد مارے جا تے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’امریکی افواج الزرقاوی کو ابھی تک پکڑنے میں ناکام رہی ہیں تو اس کا مطلب کیا یہ نکالا جائے کہ امریکہ عراق میں سنجیدہ نہیں ہے‘۔ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی افواج نے الزرقاوی کو پکڑنے کی کوشش کی اور ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر اسی ہزار پاکستانی افواج تعینات کی گئی ہیں جو کہ افغانستان میں موجود امریکہ، اتحادی افواج اور افغانی فوج کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ کیا امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان میں دہشت گرد کاروائیاں روکنے میں کامیاب ہوئی ہیں؟‘ پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے صدر نے انتہا پسندوں کی کارروائیاں روکنے کے لیئے ان کو غیر مسلح ہونے کی صورت میں معافی دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ان لوگوں سے بات چیت شروع کی گئی۔ وزیر خارجہ کے مطابق یہ انتہا پسند اپنے مقصد کے لئے جان کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان انتہا پسندوں سے فوجی و غیر فوجی حکمت عملی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کو اس وقت دکھ ہوتا ہے جب لوگ پاکستان کی حکومت کے ارادے پر شک کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے چھ سو افسر و جوان وزیرستان میں ہلاک ہوئے ہیں جو کہ امریکی افواج،اتحادی افواج اور افغانستان کی فوج کی اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ امریکی صدر کے ساتھ بات کی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری طرح سرگرم عمل ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک اعلٰی عہدیدار نے بی بی سی کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر کے سامنے جو دستاویزی ثبوت پیش کئے ہیں وہ دراصل پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے بارے میں ہیں۔ | اسی بارے میں بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان جارج بش پاکستان پہنچ گئے03 March, 2006 | پاکستان بم دھماکہ خودکش حملہ تھا:پولیس02 March, 2006 | پاکستان یہ دہشت گردی ہے: صدر بش02 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||