رمزفیلڈ مستعفی نہیں ہوں گے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ریٹائرڈ جرنیلوں کی جانب سے وزیر دفاع کے خلاف تنقید پر رمزفیلڈ کو اپنی ’مکمل حمایت‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اپنے ایک بیان میں صدر نے جرنیلوں کی جانب سے رمزفیلڈ کے دستبردار ہونے کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ بش نے رمزفیلڈ کی سربراہی کی تعریف کی اور اسے ’مستحکم‘ قرار دیا۔ چھ ریٹائرڈ جرنیلوں نے عراق جنگ کے حوالے سے رمزفیلڈ کے خلاف بیان دیا ہے اور عراق میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتظامیہ کی نااہلی پر انگلی اٹھائی ہے۔ رمزفیلڈ نے خود بھی اپنے دستبردار ہونے کے امکان کو رد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر ہزاروں جرنیلوں اور ایڈ مرلز میں سے چند کی رائے پر ہم امریکہ کے وزیر دفاع کو تبدیل کرنا شروع کردیں تو یہ نظام تو ایک کھیل بن جائے گا‘۔ تاہم رمزفیلڈ نے بغداد کی ابو غریب جیل کے واقعات کو قابل افسوس تسلیم کیا۔ سن 2004 میں انہوں نے ابو غریب جیل کے واقعات سامنے آنے اور اس سے پیدا ہونے والے اشتعال پر اپنے استعفے کی پیشکش کی تھی تاہم صدر بش نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ صدر بش نے اپنے بیان میں جرنیلوں کے دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ وزیر دفاع نے سینیئر کمانڈرز کے ساتھ مل کر صحیح طریقے سے کام نہیں کیا۔ صدر بش کا کہنا ہے کہ رمزفیلڈ کو میری مکمل اور گہری حمایت حاصل ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ رمزفیلڈ کی رہنمائی میں امریکی فوج ایک تیز تبدیلی کے دور سے گزری ہے اور بیرون ممالک کئی تنازعات کا سامنا کیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار جین لٹل کا کہنا ہے کہ صدر بش کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ میں قیام کے دوران کسی بیان کا جاری کرنا انتہائی غیر معمولی ہے۔ رمزفیلڈ کے لیئے صدر بش کی یہ حمایت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب چند ریٹائرڈ جرنیلوں نے ان کی کارکردگی پر بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ ان جرنیلوں میں آرمی کے میجر جنرل جان رگز اور میجر جنرل چارلز ایچ سوانک شامل ہیں۔ جنرل رگز کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع نے پینٹاگون کی سویلین لیڈرشپ کے لیئے تکبر کی فضا پیدا کردی ہے۔ ’یہ لوگ فوجی ہدایت اسی وقت لیتے ہیں جب یہ ان کے ایجنڈے کے مطابق ہو جوکہ میرے خیال میں ایک بڑی غلطی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں مستعفی ہوجانا چاہیئے۔‘ ریٹائرڈ میرین جنرل اینتھونی زنی کا کہنا ہے کہ رمزفیلڈ کو عراق میں گزشتہ دس سال کے دوران کی جانے والی غلطیوں کے لیئے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیئے‘۔ تاہم دیگر جرنیلوں نے رمزفیلڈ کی حمایت کی ہے۔ ریٹائرڈ میرین لیفٹیننٹ جنرل مائیک ڈی لونگ جنہوں نے عراق میں بھی فرائض سر انجام دیئے ہیں، کہتے ہیں کہ رمزفیلڈ اپنے کام میں بہت اچھے ہیں۔ | اسی بارے میں ’فوری عراقی حکومت ضروری‘22 March, 2006 | آس پاس ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان ’ایران پر ایٹمی حملہ زیر غور ہے‘11 April, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ: استعفٰی کے لیئے دباؤ بڑھ گیا14 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||