’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے بھی بھارت کی طرز پر غیر فوجی جوہری توانائی فراہم کرے تاکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکا جا سکے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیرخارجہ یا اسسٹنٹ سکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ باؤچر اور پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کی اسلام آباد میں ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خورشید قصوری نے امریکی نائب وزیر خارجہ کو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا اور بھارت کو امریکہ کی طرف سے غیر فوجی جوہری توانائی کے معاہدے پر پاکستانی موقف بتایا اور اس مسئلے پر پیکج اپروچ یعنی بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ غیر فوجی جوہری معاہدہ کرنے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ امریکی حکام بشمول صدر بش پاکستان کے ساتھ کسی غیر فوجی جوہری معاہدے سے انکار کر چکے ہیں مگر پاکستانی حکام کو امید ہے کہ شائد امریکہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے یا پاکستان کی توانائی کی ضروریات کسی اور ذریعے سے پوری کرنے کی حامی بھرے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
انہوں نے آج پاکستانی وزیر خارجہ کے علاوہ پاکستانی سکریٹری خارجہ سے بھی ملاقات کی اور امید ہے کہ وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کریں گے۔ پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں وزیر خارجہ اور امریکی نائب وزیر خارجہ میں صدر بش کے دورہ پاکستان کے دوران سٹریٹیجک پارٹنرشپ پر ہونے والی بات چیت پر مزید بات چیت ہوئی۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی اور پاک افغان سرحد پر امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا حامی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ نے امریکی وزیر سے پاک بھارت تعلقات اور اعتماد سازی کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بات کی۔ خورشید قصوری نے پاکستان میں زلزلے کے بعد امریکی امداد پر امریکی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ امریکہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کے کام میں بھی پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا۔ |
اسی بارے میں بش کا دورہ، سٹاک ایکسچینج مندا08 March, 2006 | پاکستان جمہوریت پر بش کا بیان اہم: بینظیر05 March, 2006 | پاکستان پاک امریکہ توانائی مذاکرات 13 March, 2006 | پاکستان پاک امریکہ بحری مشقیں شروع21 June, 2005 | پاکستان ’پاک امریکہ تعاون مزید بڑھےگا‘09 November, 2004 | پاکستان پاک امریکہ: طویل المعیاد شراکت 19 October, 2004 | پاکستان پاک امریکہ میٹنگ نہیں ہو سکی 26 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||