BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 13:41 GMT 18:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کا دورہ، سٹاک ایکسچینج مندا

سٹاک ایکسچینج
صدر بش کی آمد سے پہلے بازار حصص میں تیزی دیکھنے میں آئی
پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی سٹاک ایکسچینج امریکی صدر بش کے دورے کے بعد مسلسل مندی کا شکار ہے۔ امریکہ سے کوئی اقتصادی معاہدہ نہ ہونے اور مارکیٹ میں صدر بش کے غیر مطمئن ہونے کی افواہ کے بعد سرمایہ کار بد اعتمادی کا شکار ہیں۔

بدھ کے روز سٹاک مارکیٹ میں چار سو ستاسی پوائنٹس کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ صدر بش کی آمد سے قبل جمعہ کے روز ایم ایم اے کی ہڑتال کی کال کے باوجود سٹاک ایکسچینج میں چونتیس پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا۔ مگر صدر بش کی آمد سے دو روز قبل منگل کے روز امریکی قونصلیٹ کے باہر دھماکے کے بعد ایکسچینج میں ترانوے پوائنٹس کی کمی ہوگئی۔

اس ہفتے کے پہلے دن پیر کو سٹاک ایکسچینج کی تاریخ کی بدترین چار سو ستر پوائنٹ کی کمی ہوئی اور سرمایہ کاروں کے ڈیڑھ کھرب روپے ڈوب گئے۔

اس کمی کے بعد حکومتی اداروں کی سرمایہ کاری کے بعد منگل کے روز مارکیٹ میں استحکام آیا اور ایک سو چالیس پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ بدھ کے روز مارکیٹ ایک مرتبہ پھر کریش ہوگئی اور انڈیکس میں چار سو ستاسی پوائنٹس کی کمی ہوئی۔

سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر منیر لدہا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سرمایہ کاروں میں بد اعتمادی کا رجحان ہے۔ صدر بش کے دورے سے قبل یہ توقعات کی جا رہیں تھیں کہ اقتصادی معاہدے ہونگے اور ترقی ہوگی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جس وجہ سے پیر کو مارکیٹ کریش ہوئی اور یہ رجحان جاری رہا‘۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز حکومت نے اپنے اداروں سے کچھ سرمایہ کاری کی تھی مگر یہ استحکام عارضی ثابت ہوا ہے۔ منیر لدہا کے مطابق ’مارکیٹ میں یہ افواہ گردش میں تھی کہ بش اور مشرف ملاقات مثبت ثابت نہیں ہوئی اور صدر بش مطمئن نہیں ہیں جس سے ملک کی سیاسی صورتحال بھی غیر یقینی ہو گئی ہے‘۔

سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اگر سرمایہ کاری کا کوئی اشارہ ملتا ہے اور سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوتا ہے تو مارکیٹ میں استحکام آئیگا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مارکیٹ ساڑھے دس ہزار کی حد تک پہنچتی ہے تو اس سے کافی حوصلہ افزائی ہوگی۔

تاہم ان کے اس موقف سے کراچی کے اہم بروکر یاسین لاکھانی اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا تھا کہ ’اصل سرمایہ کاروں کی جگہ پر فوری منافح خور مارکیٹ میں زیادہ آگئے تھے اور انہیں باہر نکلنے کے لیئے کوئی نہ کوئی بہانا چاہیئے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جو مارکیٹ کی بارے میں معلومات رکھتے ہیں انہیں صدر بش کے دورے سے زیادہ توقعات نہیں تھیں کیونکہ یہ پہلے پتہ چل گیا تھا کہ صدر بش سے کوئی بھی اقصادی معاہدہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان ان کے نکات سے متفق نہیں تھا۔

سیاسی عدم استحکام کے بارے میں بھی ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے وزیرستان کا مسئلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے اور بلوچستان ایشو کو بھی چھ ماہ بیت گئے ہیں۔

مارکیٹ میں استحکام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب ایک پرکشش سطح آئیگی اور ایک روپے کی چیز بارہ آنے میں ملے گی تو سرمایہ کار واپس آئینگے اور وہ چیز ایک روپے تک واپس پہنچ جائیگی۔

ایک آزاد تجزیہ نگار خرم اقبال بھی اس بات سے متفق ہیں کہ صدر بش کے دورے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے مگر وہ بتاتے ہیں کہ کچھ اداروں کی نجکاری میں دیر کی وجہ سے بھی حصص کی خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد