BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈوب گئے
News image
کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ۔
کراچی سٹاک ایکسچیج میں ایک میہنے میں تین ہزار پوائنٹ گر جانے سے چھوٹے سرمایہ کاروں کے کروڑں روپے ڈوب گئے ہیں۔

کراچی سٹاک ایکسچیج کو 2003 میں دنیا کا سب سے زیادہ ترقی کرنے والے سٹاک ایکسچینج کا اعزاز ملا تھا۔

ایک مہینے میں تین ہزار پوائنٹ کے گرنے کا مطلب یہ کہ سٹاک ایکسچیج کا ایک تہائی حصہ ختم ہو چکا ہے۔

سٹاک ایکسچینج میں مندے کا رحجان شروع ہونے سے پہلے کراچی سٹاک نے اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ بلندی حاصل کر لی تھی اور اس کے ججم ایک ہزار پوائنٹ کی حد کو عبور کر گیا تھا۔

جن لوگوں کا خیال تھا کہ کراچی سٹاک ایکسچیج دوسری دفعہ بہترین سٹاک ایکسچنج کا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہو جائے گی انہوں نے اب اپنی رائے بدل لی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی سٹاک ایکسچیج دنیا کی سب سے زیادہ مصنوعی مارکیٹ ہے جس کو آسانی سے اوپر نیچے کیاجا سکتا ہے۔

دنیا میں سٹاک ایکسچینج کو ماپنے کے مروجہ طریقے پاکستان میں فیل ہو گئے ہیں اور سٹاک مارکیٹ ایک بڑے جوئے خانے کے طور پر کام کرتی ہے۔

ڈاکٹر التماش کمال کا جو سٹاک مارکیٹ کے ماہر جانے جاتے ہیں، کہنا ہے کہ مارکیٹ کو ماپنے کے طریقے ناکام ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر التماش کمال بارہ اپریل کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا ایک روزہ میچ دیکھ رہے تھے جب ایک کرکٹ کمنٹیٹر نے کہا کہ اس میچ کے فیصلے سے سٹاک مارکیٹ متاثر ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر المتاش کمال نے کہا کہ کرکٹ کمنٹیٹر سٹاک مارکیٹ کے کاروبار کے بارے میں سب کچھ کہہ دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹاک مارکیٹ کے بارے میں ہمارا تجزیہ اب اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ ایک کرکٹ میچ کا فیصلہ اس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس سٹاک مارکیٹ کی مندی کی وجہ ملک میں دوسرے کاروباروں پر برا اثر پڑے گا جیسے زمین کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔

جب سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان تھا تو چھوٹے سرمایہ کار مارکیٹ
میں داخل ہوئے لیکن اب یہ ہی چھوٹے سرمایہ کار ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

عثمان بشیر جو ایک کاروباری شخصیت ہیں کا کہنا ہے کہ ان چھوٹے سرمایہ کاروں میں شاید ہی کوئی ایسا تھا جو در حقیقت سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا تھا اور یہ تمام کے تمام جوا کھیل رہے تھے۔

کئی تبصرہ نگار اس بات سے حیران ہیں کہ اتنی بڑے نقصان کے بعد لوگوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا ہے جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ ابھی اور نیچے جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد