BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار

۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے بارہ ارب کے ذخائر کئی سالوں بعد پہلی دفعہ دباؤ کا شکار ہیں۔ پیسہ تیزی کے ساتھ ملک سے باہر جا رہا ہے جس کی وجہ سے روپے کی قیمت میں کمی جبکہ افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کیپیٹل فلائیٹ کا سب سے بڑا سبب خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری ہے۔ متعدد کمپنیاں جائیداد میں سرمایہ کاری کی سکیموں کے ذریعے خلیجی ممالک میں پیسہ کھینچ رہی ہیں۔

اس رجحان کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بہت محدود ہیں اور بچت سکیموں میں منافع کی شرح بھی کم ہے۔ فیملی ویزوں اور یقینی منافع جیسی مراعات کے ذریعے غیر ملکی کرنسی خلیجی ریاستوں میں برآمد کی جا رہی ہے۔ خلیجی کمپنیاں اس سلسلہ میں مختلف ٹی وی چینلز پر اشتہارات دے رہی ہیں۔

سٹیٹ بنک کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق صرف کراچی کے ہوائی اڈے سے روزانہ دس سے پندرہ ملین ڈالر کی غیرملکی کرنسی کسٹم حکام کی ملی بھگت سے دبئی سمگل کی جاتی ہے۔ یہ کاروائی ملک کے دوسرے ہوائی اڈوں سے بھی ہو رہی ہے اور چیکنگ سخت ہونے کی صورت میں کشتیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں سنٹرل بورڈ آف ریوینیو کے چیرمین عبداللہ یوسف نے اپنی نگرانی میں کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کے دوران تقریباً چار ملین ڈالر کی کرنسی سمگل کرنے کے کوشش ناکام بنائی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق پاکستانی روپے کی قیمت میں گزشتہ چار ماہ کے دوران تقریباً چار فیصد کمی ہوئی جس کی سب سے بڑی وجہ غیر ملکی کرنسی کی غیرقانونی منتقلی ہے۔

جولائی کے مہینے میں امریکی ڈالر 57.50 روپے میں دستیاب تھا جبکہ اب کی کی قیمت 61.10 روپے ہو چکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان سے نو سو ملین ڈالر سے زائد کی غیر ملکی کرنسی جائیداد میں سرمایہ کاری کی غرض سے متحدہ عرب امارات میں سمگل کی جا چکی ہے۔

قانونی طور پر ایک مسافر دس ہزار کی رقم ساتھ لے کر جا سکتا ہے۔کرنسی کا کاروبار کرنے والے اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئےدن میں ایک سے زیادہ دفعہ خلیجی ریاستوں کے سفر کر سکتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سٹیٹ بنک کے گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے حکومتی سطح پر اس معاملہ کو اٹھایا ہے۔ لیکن پاکستان کو خلیجی حکومتوں سے خاطر خواہ تعاون کی امید نہیں ہے کیونکہ یہ حکومتیں خود سرمایہ کاری کی سکیموں کا اعلان کرتی ہیں۔حکومت نے اس معامہ پر آئی ایم ایف اور امریکہ سے بھی بات چیت کی ہے لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

پاکستانی روپے کی قیمت میں گزشتہ چار ماہ میں تقریباً چار فیصد کی کمی آ چکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ غیر ملکی کرنسی کی غیر قانونی برآمد ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مشینری اور پانی میں کمی کی وجہ سے ایندھن کی عالمی طلب میں اضافہ بھی روپے کی قیمت کو متاثر کر رہا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے تجارتی خسارہ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اگر زر مبادلہ کے ذخائر موجودہ مالی سال میں بارہ ارب سے نیچے نہ آئے تو یہ ایک معجزہ ہو گا۔ حکومت کے معاشی امور کے مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق اس سال درآمدات، تیل کی قیمتوں اور تجارتی خسارہ میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے تاہم خطرے کی کوئی بات نہیں کیونکہ مجموعی اقتصادی صورت حال، زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کے اہم خدوخال کافی حوصلہ افزاء ہیں۔

کئی دوسرے ماہرین کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران روپے کی قیمت میں مزید کمی ہوگی اور زرمبادلہ کے ذخائر بارہ ارب ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے ضرور آئیں گے۔غیر ملکی کرنسی کی برآمد کے ملکی معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد