’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے امورِ جنوبی و وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ امریکہ عوام کی حکمرانی میں پختہ یقین رکھتا ہے اور فوج کو سویلین حکومت کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس ( ر) قاضی محمد فاروق سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف امریکہ پاکستان کو جمہوری، روشن خیال اور اعتدال پسند اسلامی ملک دیکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف ایک فوجی وردی والے صدر کو بھی تسلیم کرتا ہے کیا یہ دوہرے معیار نہیں؟۔ اس پر رچرڈ باؤچر نے کہا کہ ’یقیناً یہ ایک اہم معاملہ ہے لیکن امریکہ عوام کی حکمرانی میں پختہ یقین رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ فوج پر سویلین حکومت کو مکمل کنٹرول ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں مضبوط جمہوریت کے قیام اور آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کو شفاف اور آزادانہ بنانے کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح کے بیانات امریکہ کے اعلیٰ حکام پہلے بھی دیتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑے سرکاری عہدیدار نے پاکستانی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے اس بارے میں باضابطہ بات چیت کی ہے۔ رچرڈ باؤچر نے مزید کہا کہ فوجی وردی کا معاملہ جمہوریت کی بحالی کے عمل کا ایک حصہ ہے اور آئندہ سال جب عام انتخابات ہوں گے تو اس بارے میں صدر مشرف نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے دیگر امور کی نسبت پاکستان میں جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کے قیام پر زیادہ بات چیت کی۔ تاہم انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ان کی اس بات کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی طرفداری یا مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے اور مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی اچھا شگون ہے اور جسٹس ( ر) قاضی محمد فاروق کی شہرت بھی اچھی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کے لیئے اقدامات کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے مختصر دورے کے دوران امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان میں مضبوط جمہوری نظام کے قیام اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے پر زور دیا تھا۔ رچرڈ باؤچر نے بھی اپنے صدر کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے پاکستانی حکام سے بات چیت کی ہے۔ امریکہ بظاہر تو پاکستان سے عالمی، علاقائی اور دو طرفہ امور میں اپنے تعلقات پر توجہ دیتا رہا ہے لیکن اب انتخابات کے شفاف ہونے میں ان کی دلچسپی سے لگتا ہے کہ وہ اندرونی معاملات میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں اپنی وزارت خارجہ کا جنوبی ایشیا کا بیورو وسیع کرتے ہوئے وسطی ایشیا کے امور بھی اس میں شامل کیے تھے۔ توسیع کے بعد وہائٹ ہاوس کے ترجمان رچرڈ باؤچر کو نائب وزیر خارجہ برائے امورِ جنوبی اور وسطی ایشیا بنایا گیا تھا اور اس حیثیت میں یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ بریفنگ کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو انہوں نے سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک مستقبل میں بھی اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ ایک سوال پر امریکی نائب وزیر نے کہا کہ ایران سے گیس حاصل کرنے پر انہیں تشویش ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے پاس ترکمانستان کی صورت میں متبادل ذرائع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس، کوئلے اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں ان سے تعاون کرے گا۔ ڈاکٹر قدیر خان کے متعلق جب ان سے پوچھا کہ کیا ان سے معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری ہے یا امریکہ نے یہ باب بند کردیا ہے؟ تو رچرڈ باؤچر نے کہا کہ یہ سلسلہ جاری ہے اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ان سے جوہری پھیلاؤ کے بارے میں معلومات لی جاتی ہیں۔ امریکہ پاکستان کے جوہری تعاون کے مطالبے کا کھل کر کوئی جواب نہیں دے رہا اور وہ اپنے اس موقف پر قائم ہے جس میں صدر بش نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی ضروریات مختلف ہیں اور جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے دونوں کی تاریخ بھی مختلف ہے۔ | اسی بارے میں باؤچر کی حکام سےملاقاتیں05 April, 2006 | پاکستان ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان ’مسئلہ کشمیر میں چین فریق نہیں‘04 April, 2006 | پاکستان پشاور: دھمکیاں، امریکی مشن بند28 March, 2006 | پاکستان توانائی مذاکرات، تجاویز کا تبادلہ13 March, 2006 | پاکستان امریکی وزیر دورۂ پاکستان پر11 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||