BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 April, 2006, 09:17 GMT 14:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باؤچر کی حکام سےملاقاتیں

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باؤچر
تاحال امریکہ نے پاکستان کے جوہری تعاون کے مطالبے کا کھل کر کوئی جواب نہیں دیا
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باؤچر نے بدھ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس ( ر) قاضی محمد فاروق سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔

امریکی سفارتخانے کی ترجمان نائیڈا ایمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امریکی نمائندے کی ان ملاقاتوں کی تصدیق تو کی لیکن تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ رچرڈ باؤچر شام کو ذرائع ابلاغ کے کچھ نمائندوں سے خود بات چیت کریں گے۔

امریکی سفارتخانے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رچرڈ باؤچر نے چیف الیکشن کمشنر سے اپنی ملاقات میں پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کے بارے میں بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ان کے مطابق امریکی نمائندے نے چیف الیکشن کمشنر سے پاکستان میں انتخابات کے طریقہ کار اور کمیشن کے دائرہ اختیار کے بارے میں بھی معلومات لیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے مختصر دورے کے دوران امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پاکستان میں مضبوط جمہوری نظام کے قیام اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے پر زور دیا تھا۔

 امریکہ بظاہر تو عالمی اور علاقائی امور کے بارے میں پاکستان سے اپنے تعلقات پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے لیکن اب انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں دلچسپی لینے سے لگتا ہے کہ وہ اب ملک کے اندرونی معاملات میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔

امریکہ بظاہر تو عالمی اور علاقائی امور کے بارے میں پاکستان سے اپنے تعلقات پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے لیکن انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں دلچسپی لینے سے لگتا ہے کہ وہ اب ملک کے اندرونی معاملات میں بھی دلچسپی لے رہا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کا پاکستان میں آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کو غیر جانبدار اور شفاف بنانے میں گہری دلچسپی لینے سے حزب اختلاف کی جماعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

رچرڈ باؤچر منگل کے روز پاکستان پہنچے تھے اور انہوں نےاُسی روز وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے باضابطہ بات چیت کی تھی۔

اس بات چیت میں پاکستان نے زور دے کر کہا تھا کہ امریکہ بھارت کی طرح پاکستان کی بھی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہیں شہری جوہری پروگرام کے لیے پیکیج پیش کرے۔

صدر مشرف نے بھی امریکی نائب وزیر سے ملاقات میں جہاں سویلین نیوکلیئر تعاون کا معاملہ اٹھایا وہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بھارت کے ساتھ جامع مزاکرات میں پیش رفت سے بھی مطلع کیا۔

تاہم تاحال امریکہ نے پاکستان کے جوہری تعاون کے مطالبے کا کھل کر کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اپنے اس موقف پر قائم ہے جس میں صدر بش نے کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کی ضروریات مختلف ہیں اور جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے دونوں کی تاریخ بھی مختلف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد