پیٹریاٹ ایکٹ، قانون بن گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متعدد شقوں کے کالعدم ہونے سے صرف چندگھنٹے پہلے صدر بش نے دستخط کر کے متنازعہ پیٹریاٹ ایکٹ کی کو قانونی شکل دے دی ہے۔ اس ایکٹ کو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی مبینہ جنگ کا مرکزی حصہ خیال کیا جاتا ہے۔ امریکی کانگریس نے متنازعہ پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کے سلسلے میں آئینی بِل کی منظوری دے چکی تھی۔ پیٹریاٹ ایکٹ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے سلسلے میں صدر بش کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔ شہری آزادیوں کے سلسلے میں پائی جانے والی تشویس کے بعد پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کئی ماہ تک التواء کا شکار رہی۔ پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت فیڈرل ایجنٹوں کو حاصل ہونے والے اختیارات پر سینیٹروں کی تشویش کے بعد وائٹ ہاؤس نے آئینی بِل کے مسودے پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ پیٹریاٹ ایکٹ گیارہ ستمبر کے ’دہشت گرد‘ حملوں کے فوراً بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ منگل کو پیٹریاٹ ایکٹ کی 138 کے مقابلے میں 280 ووٹوں سے منظوری دی۔ سینیٹ نے گزشتہ ہفتے ہی پیٹریاٹ ایکٹ کی منظوری دی تھی۔ اگر منگل کے روز پیٹریاٹ ایکٹ کو منظور نہ کیا جاتا تو اس کی سولہ شقیں جمعہ کے روز کالعدم ہو جاتیں۔ گانگریس سے منظوری کے بعد ان سولہ میں سے چودہ شقیں ہمشیہ کے لیے امریکی آئین کا حصہ بن جائیں گی جبکہ دو میں چار ماہ کی توسیع ہو گی۔ | اسی بارے میں امریکہ: پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید08 March, 2006 | آس پاس پیٹریاٹ ڈیل: کانگریس مان گئی10 February, 2006 | آس پاس پیٹریاٹ ایکٹ پر صدربش کی ہزیمت23 December, 2005 | آس پاس پیٹریاٹ ایکٹ میں چھ ماہ کی توسیع22 December, 2005 | آس پاس ’پیٹریاٹ شقوں میں تجدید نامنظور‘16 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||