57 سال سے جلتی ہوئی آزادی کی آگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایک دیہاتی نے ستاون سال پہلے آزادی کی خوشی میں آگ جلائی تھی جو انہوں آج تک بجھنے نہیں دی۔ شمال مشرقی ریاست آسام کے رہنے والے پادو رام مہنت ہر شام کو انیس سو سینتالیس میں حاصل کی گئی آزادی کے لیے بھُس جلا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ منگل کو پادو رام تراسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے لیکن ان کا مشن زندہ ہے۔ ان کے گاؤں والوں نے عہد کیا ہے کہ وہ پادو رام کی روایت کو زندہ رکھیں گے۔ پادو رام کے گاؤں کے ایک باسی کا کہنا ہے پادو رام نے بھارت کے لیے اپنے جذبہ حب الوطنی کو اس وقت زندہ رکھا جب آسام جل رہا تھا۔ آسام میں انیس سو اسی کی دہائی سے علیحدگی پسند تحریک چل رہی ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوان گھر چھوڑ کر یونائٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نامی علیحدگی پسند تحریک کا حصہ بن چکے ہیں۔ پادو رام کے گاؤں سے بھی بہت سے نوجوان اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔ پادو رام بھارت پر یقین رکھتے تھے اور ان کے لیے آسام بھارت کا حصہ ہے۔ گزشتہ برس آسام میں کانگریس پارٹی کی حکومت نے پادو رام کو پچاس ہزار روپے انعام بھی دیا جو انہوں نے گاؤں والوں کے کہنے پر قبول کر لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||