قاتل پولیس اہلکار کو شہید کا درجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ایک علیحدگی پسند گروپ الفا نے کہا ہے کہ وہ اُس پولیس کانسٹیبل کو شہید کا درجہ دیں گے جس نے چند روز پہلے کشمیر میں اپنے سات ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ الفا کے عسکری ونگ کے سربراہ پریش بروا نے بی بی سی کو پیر کے روز بتایا کہ ان کی تنظیم نے سمریند ڈیکا نامی اس پولیس کانسٹیبل کو انڈیا کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس میں خفیہ طور پر بھیجا تھا۔ سمریندر ڈیکا کا تعلق آسام سے تھا اور اس نے ہفتے کے روز کمشیر میں بارہ مولا میں ایک پولیس کیمپ میں اپنے سات ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ پریش بروا نے بتایا ہے کہ ڈیکا الفا کے خفیہ ترین سیل ’مئیو‘ کے رکن تھے جو انیس سو چھیانوے سے کام کررہا ہے۔ مسٹر بروا کے مطابق مئیو کے ارکان خصوصی مشن پر بھیجے جاتے ہیں اور انٹیلی جنس اور دوسرے باغی گروپوں سے رابطہ کرنے کا کام کرتے ہیں۔ مسٹر بروا کا کہنا تھا کہ ڈیکا اپنے مشن میں کامیاب ہوئے ہیں لہٰذا ان کی تنظیم الفا انہیں شہید کا درجہ دے گی۔ باغی گروپ الفا کے متعلق اس طرح کی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ وہ انڈین سیکورٹی فورسز میں سرائیت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن اس طرح کے دعووٰں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ کشمیر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کانسٹیبل ڈیکا نے چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے سخت پریشانی کی کیفیت میں فائرنگ کی تھی۔ اگرچہ الفا تنظیم میں کچھ سابقہ انڈین فوجی اور پیرا ملٹری کے اہلکار شامل ہیں لیکن ایک اینٹیلی جنس کے افسر کے مطابق الفا کے سربراہ پریش بروا شاید یہ دعوٰی کرکے انڈین فورسز میں شامل آسام سے تعلق رکھنے والے افراد اور حکام کے درمیان مزید کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||