آسام: مذاکرات کیلیے خودمختاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسام کی علیحدگی پسند تنظیم نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ آسام کی خود مختاری پر بات نہیں کرتی۔ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام، جسے غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، کے عسکری شعبہ کے سربراہ پاریش برُوا نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کا یہ پروپیگنڈہ کہ ان کی تنظیم خود مختاری کی شرط رکھے بغیر حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، بالکل بے بنیاد ہے۔ ہمارے نامہ نگار سبیر بھاؤمک کے مطابق پریش برُوا کا یہ بیان آسام کے مشہور ادیب مامونی رائسم کی وزیراعظم من موہن کے ساتھ ملاقات کے جواب میں آیا ہے۔ اس ملاقات میں مامونی رائسم نے من موہن سے اپیل کی ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت آسام میں اپنی کاروائیاں روکے اور علیحدگی پسندوں سے مذاکرات شروع کرے۔ پریش برُوا نےمامونی رائسم کی اپیل کو ایک دلیرانہ اقدام قرار دیا ہے تا ہم انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ خود مختاری کی بات کے بغیر ان کی تنظیم مذاکرات نہیں کرے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ہمیں لکھ کر دے کہ مذاکرات میں خود مختاری کے معاملہ پر بھی بات ہوگی، ورنہ ہم مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف وزارتِ داخلہ کے ایک سینیئر افسر نے کہا ہے کہ تنظیم کے خودمختاری پر بات کرنےکے مطالبہ کی موجودگی میں انہیں بات چیت شروع ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ مذکورہ افسر کے مطابق مامونی رائسم نے حکومت کو اشارہ دیا تھا کہ فرنٹ کے رہنما خود مختاری کی شرط رکھے بغیر مذاکرات کے لیے رضامند ہیں۔ لیکن اب پاریش برُوا کے بیان کے بعد یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ فرنٹ کیا چاہتا ہے۔ آسام کی ملحقہ ریاست منی پور کے علیحدگی پسند گروہوں نے بھی بھارتی حکومت سے مذاکرات کے امکانات کو رد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت سے ان کی جنگ جاری رہے گی۔ یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے ان دنوں منی پور میں علیحدگی پسندوں کے خلاف اپنی کاروائیوں میں اضافہ کیا ہوا ہے۔ وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق منگل کے دن فوج کے ساتھ لڑائی میں تین باغی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ دوسری طرف فرنٹ نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ دو کاروائیوں کے دوران انہوں نے بارہ فوجی ہلاک کیے اور سولہ کو زخمی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||