آزادی ریلی میں دھماکہ، پندرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں یوم آزادی کے موقع پر نکالے جانے والے جلوس میں بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم پندرہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے آسام کی علیحدگی پسند تنظیم ، یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ دھماکہ اس نے کرایا ہے۔ دھماکہ بھارت کے وقت ساڑھے نو بجے آسام کے قصبے کھامجی میں ہوا۔ کھامجی ریاست آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے چار سو ساٹھ کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے اپیل کر رکھی تھی کہ بھارت کی یوم آزادی کی تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے ہونے میں اکثریت سکول کے بچوں کی ہے جن کو آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لایا گیا تھا۔ علیحدگی پسند تنظیم ، یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام بھارت سے علحیدگی کے لیے 1979 سے کوشش کر رہی ہے۔ علیحدگی کی اس تحریک میں پچھلے دس سالوں میں اب تک دس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پورے بھارت میں سیکیورٹی فورسز نے یوم آزادی کی تقریبات کے دوران علیحدگی پسند گروپوں کی ممکنہ تخریبی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں ۔ دارالحکومت دہلی کے اوپر ہیلی کاپٹر پرواز کرتے نظر آتے ہیں اور 65000 ہزار پولیس اور پیراملٹری فورسز تخریبی کاروائیوں سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں ۔ یوم آزادی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے لال قلعہ کے تاریخی قلعے کے ’بلٹ پروف‘ سٹیج سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گردی سے امن کی کوششوں کو خطر ہ لا حق ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||