’سِڈ‘خود کش حملہ آور کیسے بنا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات جولائی کے لندن بم حملوں کے ایک بمبار کے بارے میں بی بی سی ریڈیو کے ایک پروگرام میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کب اور کیسے دہشت گردی کے طرف آئے۔ بی بی سی ریڈیو فور پر جمعرات کی شام نشر ہونے والے اس پروگرام (’بائیوگرافی آف اے بومبر‘) میں پتہ چلتا ہے کہ محمد صدیق خان کا رحجان اس طرف انتہا پسند مساجد اور علماء کے ذریعے نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے چھوٹے گروپ کے ذریعے ہوا جو نوجوانوں کو مسلمانوں پر کیے گئے مظالم کے ویڈیو دیکھاتا تھا۔ پروگرام میں صدیق خان کے ایک سابق ساتھی نے بتایا ہے کہ یہ ویڈیو ٹیپ کئی مسلمان نوجوان مل کر دیکھا کرتے تھے۔ اس سے پہلے محمد صدیق خان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف ان کے رحجان کی وجوہات مقامی مساجد کی تشدد پسندی کے علاوہ ان کا برطانوی معاشرے میں شامل نہ ہو سکنا بھی تھا۔ تاہم اس پروگرام سے پتہ چلتا ہے کہ جوانی میں صدیق خان کا خواب تھا کہ وہ امریکہ چلے جائیں۔ ان کے زیادہ تر دوست سفید فام انگریز تھے اور وہ ایک مغرب زدہ نوجوان تھے جو ’سِڈ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کے سکول کے زمانے کے ایک قریبی دوست روب کارڈِس نے بتایا کہ اُس وقت صدیق خان بڑے انگریز معلوم ہوتے تھے اور ان کو فٹبال میں بہت دلچسپی تھی اور یہ کھیل وہ سفید فام انگریز لڑکوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ کارڈس کا کہنا ہے کہ ’اس زمانے میں کئی پاکستانی لڑکے اسلام کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے لیکن ’سِڈ‘ ان میں شامل نہیں تھا۔ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ کس مذہب کا ہے۔‘ صدیق خان کے ساتھ جہادی ویڈیو ٹیپ دیکھنے والے گروپ میں شامل ’خالد‘ نامی ایک شخص نے بتایا کہ اس گروپ میں لندن حملوں کا ایک اور بمبار جرمین ’جمال‘ لنڈزی بھی شامل تھا۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ ویڈیو ٹیپ دیکھنے کے بعد تمام نو جوان ’پینٹ بالنگ ‘ جیسی تفریح کے لیے نکل جاتے تھے۔ ’خالد‘ کا کہنا ہے یہ ویڈیو ٹیپ صدیق خان نہیں بلکہ کوئی اور لا کر چلایا کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے کسی سے سنا کہ صدیق خان جہادی اور عسکری تربیت کے لیے بیرون ملک جا رہے تھے۔ ’میں نے کئی مرتبہ یہ بات سنی کہ وہ جہادی تنظیموں سے ملنے کے لیے جا رہا تھا۔ پتہ نہیں وہ اتنے لوگوں کو یہ بات کیوں بتانا چاہتا تھا۔ یا شاید وہ اس چکر میں تھا کہ کوئی اس میں دلچسپی لے تو پھر اس کو بھی وہ بھرتی کر سکے۔‘ محمد صدیق خان نے سات جولائی کو لندن کے ایجویر روڈ ٹرین سٹیشن پر خود کش حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں صدیق خان سمیت سات لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ کئی ہفتے بعد ان کے ویڈیو پیغامات بھی منظر عام پر آئے جس میں انہوں نے برطانیہ اور مغربی ممالک کے لوگوں سے کہا کہ ’جب تک آپ ہمارے لوگوں کے خلاف مظالم کریں گے ہم بھی آپ کے خلاف اس طرح کے حملے کرتے رہیں گے۔‘ ان پیغامات میں انہوں نے بظاہر اپنے ملک یعنی برطانیہ سے لا تعلقی کا اظہار کیا اور اپنا شمار دنیا کے مظلوم مسلمانوں میں کیا تھا۔ پچھلے ہفتے جاری ہونے والے ایک اور پیغام میں انہوں نے مغربی ممالک اور مسلمان رہنماؤں پر سخت تنقید کی۔ عمر کی لحاظ سے محمد صدیق خان لندن حملے کے بمباروں میں سب سے بڑے تھے اور خیال ہے کہ وہ ہی اس گروپ کے رہنما تھے۔ |
اسی بارے میں لندن بمبار کی ویڈیو جاری02 September, 2005 | آس پاس حملہ آور کون تھے14 July, 2005 | آس پاس 7جولائی: حملوں سے پہلے ریہرسل20 September, 2005 | آس پاس بمباروں کی سی سی ٹی وی ویڈیو20 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||