لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بڑے اخبارات نے جمعرات کو منکشف کیئے جانے والے دہشت گردی کے مبینہ لندن پلان کی تفصیلات اپنے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہیں۔ روزنامہ جنگ اور ڈیلی ٹائمز نے یہ رپورٹیں شائع کی ہیں کہ لندن سازش اس وقت پکڑی گئی جب زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے برطانیہ سے بھاری رقوم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بینکوں میں بھیجی گئیں۔ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے لندن پلان کی ایک مختلف کہانی اپنے شہ سرخی کے ساتھ شائع کی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں قائم ایک خیراتی ادارہ نے گزشتہ سال دسمبر میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے ایک پاؤنڈ اسٹرلنگ میں بڑی رقم میرپور کشمیر کے تین مختلف بینکوں۔ سعودی پاک کمرشیل بنک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور حبیب بینک کے ذریعے تین افراد کے نام منتقل کیں۔ اخبار کے ذرائع کے مطابق یہ رقوم جن لوگوں کےنام منتقل کی گئی وہ تینوں کشمیری ہیں۔ تاہم اخبار کو ان کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔
اس سال جون میں برطانوی حکام (یو کے نیشنل ٹیررسٹ فنانشل انویسٹی گیشن یونٹ) نے اس رقم کی منتقلی کا پاکستان کی ایف آئی اے کو بتایا۔ اس ادارہ نے ان تینوں افراد سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے لندن سازش کی اہم تفصیلات کا انکشاف کر دیا۔ اخبارکے مطابق جس چیز نے شبہ پیدا کی وہ یہ تھی کہ ایک بڑی رقم کسی ادارہ کی بجائے تین افراد کے نام منتقل کی گئی۔ روزنامہ ڈان نے اپنی صفحہ اول کی رپورٹ میں اس پلان کی تفصیلات ذرا مختلف بتائی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پلان کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے راشد رؤف نامی ایک برطانوی شہری کو حراست میں لیا گیا۔
اب یہ ظاہر نہیں کہ راشد رؤف کو بھی میرپور کے بینکوں میں رقوم کی منتقلی کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا جیسا کہ ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ ہے یا مبینہ کھاتہ داروں کی نشان دہی پر۔ اخبار کے ذرائع کے مطابق راشد رؤف طیب رؤف کے والد ہیں جنہیں لندن میں سات جولائی کے ٹرین دھماکوں کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈان کا کہنا ہے کہ گرفتار کیئے جانے والے مشتبہ شخص کی گزشتہ چھ ماہ سے نگرانی کی جارہی تھی اور ان کی ٹیلی فون کالیں اور انٹرنیٹ پر پیغام رسانی پر نگاہ رکھی جارہی تھی۔ ڈان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے یہ معلومات لندن کے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو فراہم کیں جس نے چھاپے مار کر لندن میں اکیس لوگوں کو گرفتار کیا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس ذرائع نے اس سازش کے بے نقاب ہونے کے بعد چار اسلامی تنظیموں کی نگرانی شروع کردی ہے جن میں دو تنظیمیں، المہاجرون اور حزب التحریر برطانیہ سے تعلق رکھتی ہیں اور دو پاکستان سے جن کے نام لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی بتائے جاتے ہیں۔ تاہم اخبا ر کا کہنا ہے کہ ابھی ان تنظیموں سے سازش کے مشتبہ افراد کے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ڈان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے اداروں نے ابھی تک پاکستان سے نو گرفتاریاں کی ہیں جن میں سے سات کو لندن سازش سے تعلق کے الزام میں جمعہ کو ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین کو جمعہ کی صبح اسلام آباد ائر پورٹ سے اور چار کو جہلم کے پاس ایک گاؤں سے گرفتار کیا گیا۔ تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے نام اور تفصیلات ابھی تک ظاہر نہیں کی گئیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے کچھ افراد کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلہ پر ان کے نام ظاہر کرنے سے تفتیش کو نقصان پہنچے گا۔ |
اسی بارے میں ’ہوائی منصوبے‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ12 August, 2006 | آس پاس بلیئر کا فون: ایک ملزم کی تصویر 11 August, 2006 | آس پاس گرفتار ہونے والوں کے نام11 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس پاکستان سے بھی گرفتاریاں: حکام10 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||