بلیئر سے برطانوی مسلمانوں کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے مسلم گروپوں نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں ملک کی خارجہ پالیسی میں ’فوری تبدیلیوں‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی پالیسی سے برطانوی اور دیگر شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالی جارہی ہیں۔ خط میں عراق کی بگڑتی صورتحال اور مشرق وسطٰی میں فوری طور پر حملے بند کروانے میں ناکامی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس خط پر تین مسلمان ارکان پارلیمان، ان کے تین ساتھیوں اور 38 مسلم گروپوں نے دستخط کیئے ہیں جن میں مسلم کونسل آف بریٹن بھی شامل ہے۔ خط میں ٹونی بلیئر پر زور دیا گیا ہے کہ دہشتگردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیئے اپنی کوششوں میں اضافہ کردیں اور خارجہ پالیسی میں فوری تبدیلیاں کی جائیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ برطانیہ شہریوں کی جانوں کو اہمیت دیتا ہے۔ رکن پارلیمان صادق خان کا کہنا ہے کہ کئی حلقے برطانوی پالیسی کو غیر منصفانہ تصور کرتے ہیں۔ ’ہمیں یہ بات پسند آئے یا نہ آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر منصفانہ رویہ کا احساس شدت پسندوں کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہے‘۔ ’بطور اعتدال پسند، ہم شدت پسندی پر قابو پانے کے لیئے پر ممکن کوشش کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہمارا ساتھ دے گی، صرف دستی سامان پر پابندی کے قوانین سے نہیں بلکہ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے انصاف کا علمبردار ثابت کرکے‘۔ مسلم کونسل آف بریٹن کے سیکرٹری جنرل محمد عبدل باری نے کہا ہے کہ برطانیہ، مشرق وسطٰی اور باقی دنیا کے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیئے‘۔ جن تین ارکان پارلیمان نے اس خط پر دستخط کیئے ہیں ان میں صادق خان کے علاوہ شاہد ملک ارومحمد سرور شامل ہیں۔ دستخط کرنے والے دیگر حلقوں میں مسلم ایسو سی ایشن آف بریٹن، برٹش مسلم فورم اور پارلیمان کا لابی گروپ مسلم پارلیمینٹ آف گریٹ بریٹن شامل ہیں۔
ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے اس خط پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ مغرب کو متاثر کرنے والی دہشتگردی مسلم ممالک میں کئی سالوں سے تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات عراق اور افغانستان جنگوں اور گیارہ ستمبر سے قبل کے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطٰی میں جنگی اقدامات روکنے کے لیئے ٹونی بلیئر سے زیادہ محنت کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ لبرل ڈیموکریٹس کے نائب صدر ونس کیبل نے اس بات تو اتفاق کیا ہے کہ ان حالات کا خارجہ پالیسی سے تعلق ہے تاہم انہوں نے مسلم رہنماؤں کی جانب سے دیئے گئے پیغام پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس خط سے ان لوگوں کے عزائم کو ہوا ملے گی جن کی سوچ ہے کہ: اپنی خارجہ پالیسی بدلو ورنہ ہم تمہیں بم سے اڑا دیں گے‘۔ تاہم لارڈ نذیر احمد نے ان خیالات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ’ان کا مقصد شہریوں پر کیئے جانے والے حملوں کی مذمت میں یکجہتی ظاہر کرنا ہے خواہ وہ کہیں کے بھی شہری ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے مسئلے پر حکومت کی پالیسی دوغلے پن کا شکار ہے۔ ’ہم دنیا کے اس حصے میں تو شہریوں کا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن دیگر دنیا کے شہریوں کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں‘۔ |
اسی بارے میں حزب اللہ کی دھمکی، اسرائیلی حملے جاری03 August, 2006 | آس پاس لبنان: متاثرین میں بچے آگے آگے 04 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کا اسلحہ خانہ04 August, 2006 | آس پاس عراق: حزب اللہ کے حق میں مظاہرہ04 August, 2006 | آس پاس بیروت اور طائر پراسرائیلی حملے جاری04 August, 2006 | آس پاس لندن میں مظاہرہ، ٹونی بلیئر پر تنقید05 August, 2006 | آس پاس بیروت، طائر پر اسرائیلی حملے اور جھڑپ 05 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||