بیروت، طائر پر اسرائیلی حملے اور جھڑپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر جمعہ کی ساری رات اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے اور دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے کو ایک بار پھر ہفتے کو علی الصبح اسرائیلی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ ادھر فرانس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اور امریکہ جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے پر متفق ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز اسرائیل نے سب سے بڑی کارروائی جنوبی شہر طائر میں کی جہاں اسرائیلی کے اپاچی ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں نے حملے کیئے۔ طائر کے شمالی علاقے میں اسرائیلی کمانڈوز اترے اور ان کی حزب اللہ کے چھاپہ ماروں سے تقریباً دو گھنٹے تک جھڑپ ہوتی رہی۔اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق اس حملےمیں اسرائیل کے آٹھ میرین کمانڈوز زخمی ہوئے جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک بھی ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں طائر کے نزدیک لبنانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی تباہ ہوئی ہے اور ایک فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اُدھر حزب اللہ نے ہفتے کے دن شمالی اسرائیلی کے شہر حیفہ کے قریب پانچ راکٹ پھینکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں ’یو این ایچ سی آر‘ نے مسلسل لڑائی کے نتیجہ میں بےگھر اور در بدر ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً دس لاکھ لوگوں میں سے سات لاکھ نے بیروت، طائر اور سیدون کے شہروں کے آس پاس پناہ لی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد شوف اور عالیہ کے پہاڑی علاقوں میں سر چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق جمعہ کو آٹھ ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ بیروت سے جنوبی شہر ’جزین‘ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔گزشتہ تین روز میں یہ پہلا امدادی قافلہ ہے جو جنوبی لبنان پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں سے جس قدر بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’مرواھین‘ گاؤں میں صرف دو بوڑھے لوگ باقی بچے ہیں۔ البیدہ میں صرف پانچ لوگ، رامہ میں بیس سے تیس افراد اور ایت الشعب میں ڈیڑھ ہزار افراد بغیر خوراک، پانی اور بجلی کے پھنسے ہوئے ہیں۔
بیروت میں پٹرول کی راشننگ نافذ کر دی گئی ہے اور جن پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب بھی ہے وہاں سے بھی کسی گاڑی کو سات لیٹر سے زیادہ پٹرول نہیں دیا جا رہا ہے۔ جنوبی لبنان میں پٹرول گزشتہ کئی روز سے نایاب ہے جس کے سبب سیدون اور طائر کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بجلی کے جنریٹر چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ روز کا ایندھن باقی ہے۔ اس کے بعد شاید یہ ہسپتال بند کرنا پڑیں۔ سنیچر کو امریکہ اور فرانس نے کہا کہ وہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بند کرانے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ اور امریکہ قرارداد کے مسودے پر سمجھوتہ کرچکے ہیں۔ فرانس اور امریکہ کے درمیان قرارداد کے مسودے پر اختلافات کئی دنوں سے برقرار تھے۔ مسودے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں لیکن اب یہ قرارداد سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ |
اسی بارے میں قرارداد کے متن پر امریکہ فرانس متفق05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ05 August, 2006 | آس پاس تباہی کے باوجود حزب اللہ مضبوط05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں 26 ہلاک 04 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں04 August, 2006 | آس پاس بیروت اور طائر پراسرائیلی حملے جاری04 August, 2006 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی حملے میں 7 ہلاک03 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کی دھمکی، اسرائیلی حملے جاری03 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||