حزب اللہ کی دھمکی، اسرائیلی حملے جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے جمعرات کی رات جنوبی بیروت پر پرچیاں پھینکی ہیں جن پر وہاں کے رہائشیوں کو حزب اللہ کے خلاف نئے فوجی حملے سے پہلے علاقے سے چلے جانے کے لیئے کہا گیا ہے۔ اسی دوران اس نے جنوبی بیروت پر دوسرے روز بھی بمباری جاری رکھی۔ اس سے قبل حزب اللہ تنظیم کے شیخ حسن نصراللہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر مزید حملے جاری رکھے تو وہ جواب میں تل ابیب کن نشانہ بنائیں گے۔ دریں اثناء اسرائیل میں فوج کو لبنان کے علاقے میں تیس کلومیٹر اندر دریائے لتانی تک پیش قدمی کے لیئے تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بیس سال میں اسرائیل کی لبنان میں سب سے زیادہ فاصلے تک کارروائی ہوگی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنان میں اس سے پہلے بھی اسرائیل حملوں سے پہلے شہریوں کو متنبہ کرتا رہا ہے لیکن حملے کا نشانہ بننے والے لوگوں کا موقف یہی رہا ہے کہ مواصلات کے ذرائع کی تباہی اور ان کے پاس وسائل کی کمی کے باعث کہیں جانا ممکن نہیں اور اس کے علاوہ سڑکوں پر گاڑیاں بھی اسرائیلی فضائیہ کا نشانہ بن چکی ہیں۔ حسن نصراللہ نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک گھنٹے کے انٹرویو میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے پاس تل ابیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تل ابیب حزب اللہ کے اب تک کے حملوں سے محفوظ رہا ہے۔ شیخ حسن نصراللہ نے واضع کیا کہ انہیں غیرمشروط جنگ بندی تو قبول ہے تاہم کسی شرط کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل حملے بند کر دے تو وہ بھی اپنی لڑائی روک سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹر نے لبنانی وزیر اعظم فواد السنيورہ کے حوالے سے کہا ہے کہ تئیس روز کے اسرائیلی حملوں میں ابتک نو سو عام لبنانی شہری ہلاک، تین ہزار زخمی اور دس لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے ایک ہفتے کی خاموشی کے بعد جمعرات کی صبح جنوبی بیروت پر حملے شروع کیئے تھے جو دوسرے روز بھی جاری رہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق بیروت میں یہ حملے جمعرات کی صبح دو بجے کے بعد کیے گئے۔چار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور جنوبی بیروت کے طہیہ کےعلاقے کو نشانہ بنایا گیا جہاں لڑائی کے شروع میں بھی بمباری ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے دس ہزار فوجی لبنان میں موجود ہیں۔ جمعرات کو چار فوجیوں سمیت بارہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جو لڑائی شروع ہونے کے بعد ایک روز میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے شمالی وادی بیکا میں شامی سرحد کے قریب عقار کے علاقے میں ایک سڑک کو بھی نشانہ بنایا اور اطلاعات کے مطابق پل کو نقصان پہنچا ہے۔یہ پل لبنان کو شام سے ملانے والے ایک متبادل راستے پر واقع ہے۔ بیروت سے دمشق جانے والی شاہراہ پہلے ہی متعدد اسرائیلی حملوں کے سبب بند پڑی ہے۔ وینزویلا فرانس قانا انکوائری اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر ان کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ وہاں عام شہری ہیں تو وہ کبھی اس عمارت پر حملہ نہ کرتے۔ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تاحال قانا کی تباہ حال عمارت سے اٹھائیس لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ تیرہ ابھی لاپتہ ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا جاتا رہا ہے کہ قانا میں سینتیسں بچوں سمیت چوون افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں حزب اللہ :اسرائیلی دعوے کی تردید02 August, 2006 | آس پاس ’لبنان حل کیلیے اختلافات بھلا دیں‘02 August, 2006 | آس پاس لبنان: امدادی کاموں میں تعطل 02 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کارکن پکڑنے کا دعویٰ02 August, 2006 | آس پاس بنت جبیل پر کیا بیتی01 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوج بعلبک میں01 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||