بنت جبیل پر کیا بیتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے تازہ ترین اندازے کے مطابق لبنان میں اب تک نو لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اب بھی بے شمار شہری تباہ شدہ گاؤوں اور قصبوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار فرگل کین نے جنوبی لبنان کے گاؤں بنت جبیل کا دورہ کیا جہاں اب تک کی بدترین لڑائی کے نتیجے میں بے شمار گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ بنت جبیل کا قصبہ اب جدید دنیاکا حصہ نہیں رہا ہے۔ شہری اپنے تباہ شدہ گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے پھٹے ہوئے، ہوا میں لہراتے ایک جھنڈے کے سامنے کا منظر جنگ کا بدترین منظر ہے۔ یہاں ہونے والی جھڑپ میں نو اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ جوابًا انہوں نے اس گاؤں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ ٹوٹے پھوٹے گھروں میں کئی ضعیف افراد پھنسے ہوئے تھے۔ ایک عورت شدید پیاسی تھی۔ ملک کے اس حصے میں کوئی امدادی کارکن نہیں ہیں چنانچہ صحافیوں کو ہی ان بوڑھے زخمی افراد کو ایمبولینسوں تک لانا پڑا۔ صحافی لوگ انہیں پانی کے سوا کچھ نہیں دے سکتے تھے۔ ایک عورت نے پانی پلانے پر کہا ’اگر میرے پاس کوئی تحفہ ہوتا تو میں تمہیں دی دیتی‘۔ یہ لوگ جنگ سے تو بچ گئے ہیں تاہم اب بھی صدمہ کی کیفیت میں ہیں۔ ایک شخص نے کہا ’ہم لڑائی کے پہلے دن سے تہہ خانے میں چھپے ہوئے تھے۔ اب پہلی بار ہم نے دن کا اجالا دیکھا ہے‘۔ اس قصبے کے چپے چپے میں لڑائی ہوئی ہے، اس بات سے قطع نظر کہ شہریوں کو اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑی۔ اس حصے سے پناہ گزین دوسرے علاقوں کی طرف جارہے ہیں۔ ایک بوڑھے شخص کو سہارا دیتا ایک شخص ہمیں دیکھ کر ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھا ’اقوام متحدہ کو بتادو کہ یہاں آئے اور بھوکے پیاسے بچوں اور عورتوں کو دیکھے۔ ملبے میں دبی لاشیں کتے کھا رہے ہیں۔ دنیا کے لوگوں میں اب کوئی احساس باقی نہیں بچا ہے‘۔
بنت جبیل سے کچھ ہی دور تنبین کے مقام پر کئی مائیں ملک کے شمال کی جانب جانے کے لیئے لفٹ لینا چاہتی تھیں۔ کئی خاندان یہاں پیدل ہی پہنچے ہیں جبکہ خاندانوں کے بوڑھوں میں ہمت نہیں تھی کہ وہ یہ جدو جہد کرنے کا سوچ بھی سکتے۔ بنت جبیل اب بس جنگ کی باقیات کی نشانی ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی بات باہر کی دنیا تک پہنچانے کو بے قرار ہیں۔ ایک عورت یہ کہتے کہتے رو پڑی ’ہمیں اس علاقے میں لوگ بھول گئے۔ خدا کے لیئے میری کہانی باہر کی دنیا تک پہنچادیں۔ یہ کہانی صرف ہماری نہیں ہے بلکہ ہم جیسے بے شمار لوگوں کی ہے‘۔ اکیسویں صدی کے ایک جدید گاؤں کو جنگ کے خونخوار شکنجے نے پتھر کے زمانے تک پہنچا دیا ہے۔ اور یہ سب اقوام متحدہ کی موجودگی میں ہوا ہے۔ اس وعدے کو موجودگی میں کہ جنگ کے زمانے میں شہریوں کی حفاظت کی جائے گی۔ بنت جبیل کے لوگوں کے لیئے ذرہ برابر بھی تحفظ نہ تھا۔ | اسی بارے میں حملے پر تشویش، جنگ بندی نہیں 31 July, 2006 | آس پاس سانحہ قانا: شدید عالمی احتجاج 31 July, 2006 | آس پاس سفارتی کوششیں کیا رنگ لائیں گی؟ 31 July, 2006 | آس پاس قانا اور سلامتی کونسل کا اجلاس30 July, 2006 | آس پاس براہ راست: قانا سے آنکھوں دیکھا حال30 July, 2006 | آس پاس قانا: ہلاکتوں کی تعداد 60 سے زیادہ30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||