BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 July, 2006, 04:06 GMT 09:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے پر تشویش، جنگ بندی نہیں
سلامتی کونسل
اجلاس قانا پر اسرائیلی حملے کے بعد کوفی عنان کی درخواست پر بلایا گیا تھا
سلامتی کونسل نے قانا میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 54 لبنانیوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہلاک ہونے والے 54 لبنانی شہریوں میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔

ایک بیان میں سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین نے کہا ہے کہ کونسل اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ تاہم سکیو رٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی درخواست کے باوجود اس بیان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

اتوار کو قانا پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں تیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

لبنان اسرائیل لڑائی کے آغاز کے بعد اسرائیل کی جانب سے ہونے و الا یہ اب
تک کا سب سے بدترین حملہ تھا۔

اتوار کو ہونے والے سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لبنان کے خصوصی نمائندے نوہاد محمود نے سلامتی کونسل کو کوئی کارروائی نہ کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل انسانیت سوز مظالم ڈھانے کے ساتھ جنگی جرائم کر رہا ہے۔

متفقہ طور پر منظور کیے گئے اعلامیے میں سلامتی کونسل نے قانا میں بچوں سمیت ساٹھ معصوم لوگوں کی ہلاکت پر شدید صدمے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں ایک مستقل اور پائیدار جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیئے اقدامات کی ہنگامی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس قانا پر اسرائیلی حملے کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

اجلاس سے خطاب کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ اس حملے کی سخت ترین انداز سے مذمت کی جانی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ فوری جنگ بندی کی سابقہ اپیلوں پر کان نہیں دھرا گیا جس کا نتیجہ معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلا۔

 اجلاس سے خطاب کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ اس حملے کی سخت ترین انداز سے مذمت کی جانی چاہیئے

اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ قانا میں مرنے والے اسرائیلی گولہ باری کا نشانہ بنے، لیکن انہیں درحقیقت حزب اللہ نے نشانہ بنایا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ قانا بہت عرصے سے حزب اللہ کا گڑھ رہا ہے۔ اس بحران پر فرانس کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے میں سلامتی کونسل سے’مظالم کے فوری خاتمے، مستقل فائر بندی کے لیئے حالات کی تشکیل اور مشرقِ وسطی کے حالیہ بحران کے دیرپا حل‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس قرارداد پر رائے شماری بعد میں ہوگی۔

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے جون بولٹن کے مطابق قانا کے واقعے کے بعد بھی’یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ اقوام متحدہ تشدد کے خاتمے کی بات کرے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس پر زور دینے کے بجائے اقوام متحدہ کو قانا کے واقعے پر اظہار افسوس کرنا چاہیے اور فی الحال شہریوں کی حفاظت پر زور دینا چاہیے۔

قانا سے براہ راست
بی بی سی صحافی وویک راج نے قانا میں کیا دیکھا
پھر خون ہی خون
قانا میں قتل عام کی دوہری تاریخ
قانا میں ہلاکتوں کی تعداد چون بتائی گئی ہے سفارتی تبصرہ
قانا ہلاکتوں پر سلامتی کونسل کا اجلاس
اسی بارے میں
ایک لبنانی لڑکی کا گیت
30 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد