BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانا میں قتل عام کی دوہری تاریخ
لبنان
تباہ ہونے والی عمارت میں بے گھر لوگوں نے پناہ لی تھی
جنوبی لبنان کا شہر قانا تاریخ میں دو اہم واقعات کے باعث جانا جاتا تھا۔اب اسرائیلی فضائی حملے سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ قانا کی تاریخ میں ایک تیسرے بڑے ’واقعے‘ کا اضافہ ہوگیا ہے۔

قدیم روایات کے مطابق کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسٰی نے پانی کو شراب میں تبدیل کرنے کا معجزہ دکھایا تھا۔

جدید دور میں یہ دس سال قبل اسرائیل کی جانب سے کی گئی خونریزی کا نشانہ بنا۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی ایک ایسی عمارت پر حملہ کردیا تھا جس میں لبنانی شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

اس واقعے میں سو سے زائد ہلاک ہوگئے اور اتنے ہی زخمی بھی ہوئے۔ عالمی برادری نے واقعے پر صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ جنگ بندی کرے جس پر اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف جاری فوجی کارروائی روک دی۔ اسرائیل نے اس آپریشن کو ’قہر کے انگور‘ کا نام دیا۔

قانا کا قتل عام لبنان میں اسرائیل کی بلا اشتعال اور غیر متناسب فوجی کارروائی کی مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے کہا تھا کہ 1996 کا حملہ ایک ’حادثہ‘ تھا۔

پہلے کی طرح اب بھی اسرائیل نے حزب اللہ پر قانا میں ’انسانی ڈھال‘ کا الزام لگایا ہے۔

لبنان
قانا کا قتل عام لبنان میں اسرائیل کی بلا اشتعال اور غیر متناسب فوجی کارروائی کی مضبوط علامت سمجھا جاتا ہے

تاہم 1996 کے واقعہ کی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ سے سامنے آیا تھا کہ یہ ہلاکتیں کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہوسکتی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے حملوں میں ایسے بم استعمال کیئے تھے جو پھٹنے کے بعد ایسا مواد خارک کرتے تھے جو عام شہریوں کے لیئے جان لیوا زخموں کا باعث بن جاتا تھا۔

اسرائیل کی حالیہ بمباری کے نتیجے میں قانا کے قتل عام کی خبریں پھر سے گرم ہیں۔ ریڈ کراس ایمبولینس پر بمباری، نوجوان خاتون صحافی کی گاڑی پر بمباری اور اب تازہ ترین بمباری جس کے نتیجے میں کئی بچوں سمیت چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے علاقے میں پرچے گرا کر کوگوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ جائیں۔ لیکن اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کے باعث لوگوں کے پاس ان پرچوں کو نظر انداز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ پہلے بھی اسرائیل ایسی ہی وارننگ دے چکا ہے جس کے بعد شہری علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم اسرائیلی فوج طائر کی طرف جانے والے قافلوں پر بے شمار مرتبہ بمباری کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد