’ایک تہائی اسرائیل حزب اللہ کی زد میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے حملوں کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی حزب اللہ راکٹوں کی زد میں آ چکی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ 26 ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے کارکن ان جھڑپوں میں مارے گئے ہیں جو زیادہ تر بنت جبیل نامی قصبے کے قریب ہوئی ہیں۔ اسرائیلی اس قصبے کو حزب اللہ کا گڑھ کہتے ہیں۔ اس دوران حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر ایک سو سے زیادہ راکٹ داغے ہیں اور ان میں وہ نئے دور مار راکٹ بھی شامل ہیں جنہیں خیبر- ون کہا جا رہا ہے اور جو افولا نامی قصبے کے قریب گرے ہیں جو اسرائیل کی سرحد کے پچاس کلو میٹر اندر واقع ہے۔ یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ افولا میں اس سے پہلے بھی راکٹ گرتے رہے ہیں اور ان میں سے کئی عمارتوں کو بھی لگے ہیں لیکن جمعہ کو حزب اللہ نے جو راکٹ داغے ہیں ان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ایک تہائی آبادی حزب اللہ کے راکٹوں کو زد میں آ چکی ہے۔ جمعہ کو داغے جانے والے راکٹوں کے بعد افولا سے اسرائیلیوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کر گئی ہے اور پہلی بار لوگوں میں خوف دیکھا گیا ہے۔
افولا سے نقلِ مکانی کر کے یروشلم آنے والے ایک افغان نژاد یہودی خاندان کا کہنا ہے کہ راکٹ ان کے گھر سے دور نہیں گرے تھے اور ان کے گرنے سے زوردار دھماکے ہوئے تھے ان کا کا کہنا تھا اس حملے کے بعد وہاں رہنا ممکن نہیں تھا۔ اسرائیلی پولیس کے ترجمان مکی راسن فلس کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی خطرناک راکٹ ہیں۔ اگرچہ یہ راکٹ ایسے علاقے میں گرے ہیں کہ کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا لیکن جہاں یہ راکٹ گرے ہیں وہاں بڑے اور گہرے گڑھے بن گئے ہیں۔‘ |
اسی بارے میں ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل نے مذمت نہیں کی27 July, 2006 | آس پاس لبنان تک امداد پہنچانے کی جدوجہد26 July, 2006 | آس پاس کوئی جواز قابلِ قبول نہیں: چین27 July, 2006 | آس پاس لبنان اسرائیل تنازعہ: اخبارات کی رائے27 July, 2006 | آس پاس ’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘27 July, 2006 | آس پاس ’پورے خطے میں جنگ کا انتباہ‘ 26 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||