لبنان: بدلے کی آگ سے بھری تاریخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور لبنان میں انیس سو پچہتر سے وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے بحرانوں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ وہ آج کل مشرق وسطی کے جاری تنازعے پر نظر جنوبی لبنان کی بندرگاہ طائر سے رکھے ہوئے ہیں۔ اس دو قسطوں کے سلسلے کی پہلی کڑی میں وہ موجودہ تناؤ کا ماضی کے بحرانوں سے موازنہ کر رہے ہیں۔ جب اسرائیل نے انیس سو بیاسی میں میں لبنان پر حملہ کیا تھا تو تب اس کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پی ایل او کے جنگجوؤں کو شمالی اسرائیل سے تقریبا چالیس کلومیٹر دور دھکیلنا تھا۔ یہ موقف آج بھی جانا پہچانا سا لگتا ہے۔ تاہم انیسو سو بیاسی میں اسرائیلی وزیر دفاع ایرئیل شیرون کی سوچ اس وقت ظاہر ہوئی جب ان کے فوجی بیروت پر چڑھ دوڑے اور ایک عرب دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت فلسطینی تحریک کا پی ایل او کو تباہ کرکے خاتمہ، شامی فوجیوں کو لبنان سے نکالنا اور بیروت میں کوئی حامی حکومت تعینات کرنا کافی بلند اور مشکل اہداف تھے۔ اسرائیل پی ایل اور کو تباہ کرنے میں ناکام رہا تاہم اسے دبانے میں کامیاب رہا۔ یاسر عرفات اور ان کے جنگجوؤں کو بحری جہازوں کے ذریعے وہاں سے نکال کر تیونس پہنچایا گیا تھا۔ البتہ یہ کامیابی بھی بڑے کشت و خون کے بعد حاصل ہوئی تھی۔ یاسر عرفات بعد میں واپس اپنے وطن لوٹے اور بطور فلسطینی اتھارٹی کے صدر فوت ہوئے۔ اسرائیل کے دوسرے اہداف شام اور ایران کے مزید قریب آنے سے ناقابل حصول ہوئے۔ اس زمانے میں لبنان کی اکثریتی شیعہ آبادی نے جو فلسطین کی گوریلہ جنگ کی قیمت ادا کرنے کی وجہ سے اس سے تنگ آ چکی تھے ابتدائی طور پر اسرائیلی حملے کا خیر مقدم کیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے طول پکڑتے قبضے نے اس کے خلاف نفرت کو جنم دیا جس کا بعد میں شام اور ایران نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہاں حزب اللہ نے جنم لیا جس نے اسرائیل کو وہاں سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حزب اللہ نے خودکش حملہ آوروں اور دیگر ذریعوں کی مدد سے شام کے حامی گروپوں سے مل کر کثیرالمکی فورس کو بھی وہاں سے جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس فورس نے قیام امن کے لیئے اسرائیل سے بیروت کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ یہ حقائق اب کسی بھی ملک کو ذہن میں رکھنا ہوں گے جو جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے میں بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے کے بارے میں سوچ رہا ہوگا۔ انیس سو تراسی میں امریکہ، فرانس، اٹلی اور برطانیوی فوجیوں پر مشتمل اس فورس کو وہاں سے نکلنا پڑا تھا۔ اس کے سترہ برس بعد اسرائیل کو بھی سرحدی علاقے سے سینکڑوں جانوں کا نقصان اٹھا کر واپس ہونا پڑا تھا۔ سنہ دو ہزار میں حزب اللہ نے اس خالی علاقہ میں اپنے قدم جما لیئے۔ اب بارہ جولائی کے حملے کے بعد جس میں جزب اللہ نے سرحد پار حملے میں آٹھ اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک جبکہ دو کو یرغمال بنا لیا، تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے لیکن چند تبدیلیوں کے ساتھ۔ اسرائیل نے لبنان پر ایک خونی حملہ کیا ہے جس کے پس پشت سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ وہ اپنے حلیف امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ لڑ رہا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ حزب اللہ کو تباہ کر دے یا کم از کم اسے غیرمسلح کرکے اسرائیل پر میزائل داغنے کی پہنچ سے دور کر دے۔ وہ چاہتا ہے کہ یا تو لبنانی فوج یا پھر کوئی بین الاقوامی فورس سرحدی علاقے کا خیال رکھے۔ تاہم حزب اللہ کو مٹانا ممکن نہیں۔ اس کی جڑیں لبنان کی سب سے بڑی برادری میں ہیں۔ اعتدال پسند شیعہ تحریک عمل کے ساتھ اتحاد کی شکل میں وہ شیعہ سیاست پر حاوی ہے۔ اسرائیل جتنا زور بھی لگا لے وہ پی ایل او کی طرح اسے بحری جہازوں پر تیونس نہیں روانہ کر سکتا۔ لبنانی عوام اور انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا کر اسرائیل بظاہر لبنانی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کارروائیوں کو بند کرے۔ مگر یہ پالیسی بھی زیادہ کام نہ آئی۔ حزب اللہ ملیشیا کافی طاقتور، مسلح اور متحرک ہے۔ اس کا نمونہ اسرائیل کو سنہ دو ہزار میں دیکھنے کو مل چکا ہے۔ حزب اللہ کے خلاف لبنانی فوج بھی زیادہ موثر دکھائی نہیں دیتی۔ اس میں بڑی تعداد شیعوں کی ہے۔ اسے اگر حزب اللہ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو یہ یقینا غیرموثر ثابت ہوگی۔ یہ بھی ستر اور اسی کی دہائیوں میں دیکھا جا چکا ہے۔ اس مرتبہ امریکہ نہ بھی اسرائیل پر کوئی خاص دباؤ نہیں ڈالا جس کی وجہ سے اس مرتبہ کے حملے ماضی سے زیادہ شدید اور بڑے پیمانے پر ہیں۔ واشنگٹن نے اسرائیلی فوج کے تقریبا ہر علاقے پر حملوں پر چپ سادھ رکھی ہے۔ امریکہ یہاں تضاد کا شکار ہے۔ وہ شام مخالف فواد سینیورا کی حکومت کو روزانہ کی بمباری سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ ادھر وہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو حماس جیسے گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے تاہم ساتھ میں ان کے ایسا کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کر رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حماس ابھر رہی ہے۔
اسرائیل کے پاس دیگر راستے ہیں کون سے؟ اب تک کی کارروائی سے ظاہر نہیں ہوتا کہ حزب اللہ کو کوئی خاص فرق پڑا ہے۔ اگر وہ تنظیم کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ کو ختم کر بھی دیتے ہیں تو بھی یہ اس بات کی گارنٹی نہیں ہوگی کہ اس سے اس بحران پر کوئی اثر پڑ سکے گا۔ اس سے قبل انیس سو بانوے میں ایک اسرائیلی رکٹ سے عباس مساوی بھی قتل ہوئے تھے جس کا اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ان حملوں سے اسرائیل بظاہر حزب اللہ کے راکٹوں کا راستہ نہیں روک سکا ہے۔ لبنان ایک دلدل مانا جاتا ہے جس کی تصدیق اب تک کے حملوں سے بھی ہوتی ہے۔ اسرائیلی رہنما کسی سرحدی پٹی کے قیام کی بات کرتے ہیں لیکن یہ آپشن انیسو اٹہتر سے مختلف صورتوں میں آزمائی جاچکی ہیں۔ ان کے نتائج دردناک ثابت ہوئے۔ موجودہ رفتار سے حزب اللہ کو کمزور کرنے میں اسرائیل کو کافی وقت درکار ہوگا۔ اور اگر وہ ایسا کربھی لیتا ہے تو پھر کیا؟ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس پٹی کو بین الاقوامی فورس کے حوالے کر دیں گے جس کو نفاذ کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ یا پھر اگر ہوسکے تو پھر لبنانی فوج وہاں کا کنٹرول حاصل کرے گی۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے امن فوج تو ہو لیکن رکھنے کے لیئے امن نہ ہو۔ جنگ بندی کی عدم موجودگی کی صورت میں کون ملک اپنی فوج بھیجنے کو تیار ہوگا؟ قوی امکان یہی ہے کہ اسرائیل کو خود اس پٹی کا خیال رکھنا ہوگا۔ اس کی مستقل موجودگی حزب اللہ کو حملے کے مزید مواقع فراہم کرے گی۔ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ اس سلسلے کے دوسری کڑی میں جِم میور ان خطرات پر روسنی ڈالیں گے جو امریکی پالیسی کی وجہ سے اس بحران کو مزید توسیع دے سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں نئےسکیورٹی خدشات کا اظہار 28 January, 2006 | صفحۂ اول لبنان کی تباہی کی ویڈیو20 July, 2006 | صفحۂ اول شیرون کے عہد کا خاتمہ 11 April, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||