بنت جبیل: حزب اللہ کا گڑھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوب مشرقی لبنان میں پہاڑوں سے گھرے بنت جبیل کے علاقے کو اسرائیلی حکمت عملی میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ مقام حزب اللہ کے لیئے بھی ایک تاریخی علامت کا حامل ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے فوجی جرنلوں نے جب حزب اللہ سے براہ راست جنگ کے لیے فوج کو سرحد کے پار بھیجا تو انہیں اس بات کا علم تھا کہ سب سے پہلی مزاحمت اسی علاقے سے ہوگی۔ بنت جبیل کے معنیٰ عربی زبان میں ’پہاڑوں کی بیٹی’ کے ہیں۔ اس علاقے میں اسرائیل کی فتح اس کی جنگی مہم کو بڑی کامیابی فراہم کرسکتی تھی۔ لیکن یہ بات یقینی تھی کہ طویل عرصے سے حزب اللہ سے منسوب اس علاقے میں اس گروہ کے افراد آخری وقت تک لڑیں گے۔ مئی 2000 میں جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر اپنا قبضہ ختم کیا تھا تو اس وقت حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے بنت جبیل کو تنظیم کے پہلے مفتوح علاقے کے طور پر منتخب کیا تھا۔ حسن نے فتح سے سرشار حزب اللہ کے لاکھوں کارکنوں کو بتایا تھا کہ گروہ لبنانی قیدیوں کی رہائی اور شیبا فارمز پر قبضے تک جنگ جاری رکھے گا۔ شیبا فارمز کے بارے میں حزب اللہ کا دعوی ہے کہ یہ لبنان کا حصہ ہے تاہم اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق اس پر شام کا حق ہے۔ چھ سال بعد اور دو ہفتے قبل اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے خلاف جنگ شروع کی تو بنت جبیل اک بار پھر لڑائی کی زد میں آگیا۔ اس علاقے کی کل آبادی بیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی فوج کے میجر جنرل اودی آدم نے شدید لڑائی کے دوران ایک ہی دن میں اپنے نو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک سخت دن تھا۔ 48 گھنٹوں کی فضائی اور زمینی بمباری کے بعد اسرائیلی فوج کی 51 بیٹالن کی گولانی بریگیڈ اس علاقے میں داخل ہوئی تھی۔
اس علاقے کے رہائشی جو اس بات سے آگاہ تھے کہ اسرائیلی فوج یہاں پہنچ جائے گی پہلے ہی یہاں سے جاچکے تھے۔ تاہم اسرائیلی کمانڈروں کو حزب اللہ کی جانب سے مزاحمت کی توقع تھی۔ اسرائیلی فوج کے دستے جیسے ہی اس علاقے کی تنگ اور پیچدہ گلیوں میں داخل ہوئے تو ان پر چاروں اطراف سے فائرنگ کی گئی۔ اسرائیلی فوج کے ایک میجر کے حوالے سے نیو یارک ٹائمز نے بتایا کہ یہ حملہ انتہائی خطرناک اور بدترین تھا جس میں چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ، راکٹ، ٹینکوں اور مارٹر حملے تک شامل تھے۔ اس حملے میں اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے اور اس کے بعد ان کے مشن کی نوعیت تبدیل ہو گئی۔ اسرائیلی فوج کی بٹالین 51 نے اگلے چھ گھنٹے آٹھ مردہ اور زخمی فوجیوں کواس جگہ سے نکالنے اور حملوں کو روکنے میں گزارے۔ اطلاعات کے مطابق 51 بٹالین کے نو فوجی لبنان میں انیس سو چھیانوے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس لڑائی کے میں نقصان اٹھانے کے بعد اسرائیلی فوج کی زبان میں سختی آئی ہے۔ بنت جبیل کی لڑائی میں شامل یونٹ کی تعریف کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ حزب اللہ نے بھی اس لڑائی میں بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ اسرائیل کی ایک ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز ڈاٹ کام کے مطابق بٹالین کے کمانڈر لیفٹینٹ کرنل ینوو اسور نے بتایا کہ وہ کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے لیکن اس لڑائی میں ہونے والے بھاری جانی نقصانات کے بعد میڈیا کی رائے تقسیم ہو گئی ہے کہ آیا حزب اللہ پر شدید حملے کیے جائیں یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وزراء نے تجویز دی ہے کہ ایک بھرپور فضائی حملہ کیا جائے تاکہ فوجی ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔ |
اسی بارے میں ’ہمیں دنیا سے اجازت مل گئی ہے‘27 July, 2006 | آس پاس لبنان اسرائیل تنازعہ: اخبارات کی رائے27 July, 2006 | آس پاس لبنان وڈیو بلیٹن27 July, 2006 | آس پاس ’لبنان: ایک سو تیس اہداف پر حملہ‘28 July, 2006 | آس پاس لبنان: بدلے کی آگ سے بھری تاریخ28 July, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||