مشرق وسطی تنازعے کے قیدیوں کا احوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیل کے فوجی آپریشن کی ابتداء دو فوجیوں سے ہوئی جنہیں لبنانی ملیشیا نے بارہ جولائی کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔ اس واقعے کے فورا بعد حزب اللہ کے خلاف پرتشدد کارروائی کا آغاز ہوا لیکن فوجی کی رہائی کا مسئلہ ابھی بھی فلسطین، اسرائیل اور لبنان کے درمیان بی بی سی نیوز نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے پس منظر میں قیدیوں کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔ اسرائیلی فوجی: 1994 کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے قبضے میں لیے جانے والے یہ پہلے فوجی ہیں۔ حماس کی حکومت کا کہنا ہے کہ گیلاد شالیت کی رہائی پر وہ اسی وقت غور کرے گی جب اسرائیلی قبضے میں موجود اس کے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ گیلاد شالیت کو کہاں رکھاگیا ہے۔ لبنانی قیدی: حزب اللہ نے نہاریہ کے شمالی ساحل سے 31 سالہ ایہود ولڈویزر اور کریت موتزکن سے 26 سالہ الگید ریجو کو بارہ جولائی کو قبضے میں لیا۔ ان دونوں افراد کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں۔
ان فوجیوں کے بارے میں حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں اسرائیلی فوج کے قبضے میں موجود اپنے لوگوں کی رہائی کے لیئے قیدی بنایا ہے۔ اسرائیل نے ’سلامتی کے لیئے خطرے‘ کے نام پر ہزاروں افراد کو قید کیا ہوا ہے جن میں سے زیادہ تر فلسطینی ہیں۔ تاہم اسرائیل کاکہنا ہے کہ اس کی قید میں صرف تین لبنانی ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے اہم سمیر قنطار ہیں جو1979 میں نہاریہ کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر حملے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصر اللہ بھی سمیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ حالیہ بحران میں ایک بار پھر ان کا نام سامنے آیا ہے۔ اسرائیل نے قنطار کی رہائی پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل قنطار کے معاملے کو اکثر اپنے لاپتہ ہونے والے ائر فورس کے ایک افسر’ رون اراد‘ سے جوڑتا ہے۔ اسرائیلی قید میں نسیم نصر نامی ایک لبنانی یہودی بھی ہیں۔ جنہیں 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر حزب اللہ کے لیئے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔ حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان نوار الشیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کے قبضے میں موجود تیسرے شخص کا نام یحیٰی شکیف ہے۔ جو ایک جنگجو ہیں۔ خیال ہے کہ اسرائیلی قبضے میں پچیس فلسطینی نژاد لبنانی شہری بھی ہیں ان میں سے زیادہ تر کے خلاف جرائم کے مقدمات ہیں۔
فلسطینی قیدی: اس خطے میں 1987 سے شروع ہونے والے اسرائیل فلسطین تنازعے کے بعد سے اب تک اسرائیل کی قید میں موجود افراد کی اکثریت فلسطینی ہے۔ جنہیں اسرائیل نے سلامتی کے لئیے خطرہ تصور کرتے ہوئے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم ’بیت سلیم‘ کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اسرائیلی شہری اور فوجی اداروں کی قید میں اس وقت نو ہزار ایک سو تریپن فلسطینی ہیں۔ ان افراد کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار پچیاسی اسرائیلی سویلین جیلوں جبکہ دو ہزار تین سو چوراسی بغیر کسی جرم کے قید ہیں۔ سویلین جیلوں میں بند قیدیوں میں 74 خواتین ہیں اور 265 کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں قیدیوں کی تعداد کے بارے میں فلسطین کے جاری کردہ اعداو شمار میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پی ایل او کے مذاکراتی محکمے کا کہنا ہے کہ نو ہزار چارسو فلسطینی اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے آٹھ سو’انتظامی حراست‘ میں ہیں۔ فلسطین اپنے قیدیوں کو ’سیاسی قیدی‘ کہتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ قیدیوں میں سے ستر فیصد کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ فلسطین نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا معیار مقررہ حد سے بھی کہیں کم ہے تاہم اسرائیلی جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے قیدی کو انتہائی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’پورے خطے میں جنگ کا انتباہ‘ 26 July, 2006 | آس پاس مزید اسرائیلی حملے، درجنوں لبنانی ہلاک19 July, 2006 | آس پاس سات لاکھ لبنانی بے گھر: ریڈ کراس 19 July, 2006 | آس پاس اسرائیل پر انسانی ڈھال کا الزام25 July, 2006 | آس پاس لبنان میں اسرائیلی کی دفاعی پٹی 25 July, 2006 | آس پاس لبنان وڈیو بلیٹن25 July, 2006 | آس پاس مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت 26 July, 2006 | آس پاس روم: مشرق وسطٰی بحران پر مذاکرات26 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||