BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطی تنازعے کے قیدیوں کا احوال
اسرائیل لبنان تنازعے کی ابتداء فوجیوں کے قبضے سے شروع ہوئی
حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیل کے فوجی آپریشن کی ابتداء دو فوجیوں سے ہوئی جنہیں لبنانی ملیشیا نے بارہ جولائی کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔

اس واقعے کے فورا بعد حزب اللہ کے خلاف پرتشدد کارروائی کا آغاز ہوا لیکن فوجی کی رہائی کا مسئلہ ابھی بھی فلسطین، اسرائیل اور لبنان کے درمیان
بدستور موجود ہے۔

بی بی سی نیوز نے مشرق وسطیٰ کے بحران کے پس منظر میں قیدیوں کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔

اسرائیلی فوجی:
مشرق وسطی کا حالیہ بحران پچیس جون کو اس وقت شروع ہوا جب انیس سالہ گیلاد شالیت کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی کے مشرقی حصے میں کریم شلوم کی چوکی پر حملہ کرکے اپنے قبضے میں لے لیا۔

1994 کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے قبضے میں لیے جانے والے یہ پہلے فوجی ہیں۔ حماس کی حکومت کا کہنا ہے کہ گیلاد شالیت کی رہائی پر وہ اسی وقت غور کرے گی جب اسرائیلی قبضے میں موجود اس کے قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ گیلاد شالیت کو کہاں رکھاگیا ہے۔

لبنانی قیدی:

حزب اللہ نے نہاریہ کے شمالی ساحل سے 31 سالہ ایہود ولڈویزر اور کریت موتزکن سے 26 سالہ الگید ریجو کو بارہ جولائی کو قبضے میں لیا۔ ان دونوں افراد کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں۔

الگید ریجو کو حزب اللہ نے قبضے میں لیا ہوا ہے

ان فوجیوں کے بارے میں حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں اسرائیلی فوج کے قبضے میں موجود اپنے لوگوں کی رہائی کے لیئے قیدی بنایا ہے۔

اسرائیل نے ’سلامتی کے لیئے خطرے‘ کے نام پر ہزاروں افراد کو قید کیا ہوا ہے جن میں سے زیادہ تر فلسطینی ہیں۔ تاہم اسرائیل کاکہنا ہے کہ اس کی قید میں صرف تین لبنانی ہیں۔

ان قیدیوں میں سب سے اہم سمیر قنطار ہیں جو1979 میں نہاریہ کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر حملے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ماضی میں بھی حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصر اللہ بھی سمیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ حالیہ بحران میں ایک بار پھر ان کا نام سامنے آیا ہے۔ اسرائیل نے قنطار کی رہائی پر کوئی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اسرائیل قنطار کے معاملے کو اکثر اپنے لاپتہ ہونے والے ائر فورس کے ایک افسر’ رون اراد‘ سے جوڑتا ہے۔

اسرائیلی قید میں نسیم نصر نامی ایک لبنانی یہودی بھی ہیں۔ جنہیں 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر حزب اللہ کے لیئے جاسوسی کرنے کا الزام تھا۔

حزب اللہ کے ایک رکن پارلیمان نوار الشیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسرائیل کے قبضے میں موجود تیسرے شخص کا نام یحیٰی شکیف ہے۔ جو ایک جنگجو ہیں۔
نوار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے قبضے میں علی فراطین نامی ایک مچھیرا بھی ہے۔

خیال ہے کہ اسرائیلی قبضے میں پچیس فلسطینی نژاد لبنانی شہری بھی ہیں ان میں سے زیادہ تر کے خلاف جرائم کے مقدمات ہیں۔

اسرائیلی ائر فورس کے افسر کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں

فلسطینی قیدی:

اس خطے میں 1987 سے شروع ہونے والے اسرائیل فلسطین تنازعے کے بعد سے اب تک اسرائیل کی قید میں موجود افراد کی اکثریت فلسطینی ہے۔ جنہیں اسرائیل نے سلامتی کے لئیے خطرہ تصور کرتے ہوئے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم ’بیت سلیم‘ کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اسرائیلی شہری اور فوجی اداروں کی قید میں اس وقت نو ہزار ایک سو تریپن فلسطینی ہیں۔

ان افراد کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار پچیاسی اسرائیلی سویلین جیلوں جبکہ دو ہزار تین سو چوراسی بغیر کسی جرم کے قید ہیں۔ سویلین جیلوں میں بند قیدیوں میں 74 خواتین ہیں اور 265 کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں
جبکہ 645 ’انتظامی حراست‘ کے نام پر بغیر کسی جرم کے جیلوں میں بند ہیں۔

قیدیوں کی تعداد کے بارے میں فلسطین کے جاری کردہ اعداو شمار میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پی ایل او کے مذاکراتی محکمے کا کہنا ہے کہ نو ہزار چارسو فلسطینی اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں جن میں سے آٹھ سو’انتظامی حراست‘ میں ہیں۔

فلسطین اپنے قیدیوں کو ’سیاسی قیدی‘ کہتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ قیدیوں میں سے ستر فیصد کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

فلسطین نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کا معیار مقررہ حد سے بھی کہیں کم ہے تاہم اسرائیلی جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے قیدی کو انتہائی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

فضائی یا زمینی حملے؟
لبنان میں زمینی آپریشن کی ضرورت کیوں؟
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
لبنانی بچہاسرائیلی بمباری
سات لاکھ لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں: ریڈ کراس
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
انسانی ڈھال انسانی ڈھال کا الزام
اسرائیل فوجیوں پر انسانی ڈھال کا الزام
بمباری اور انخلاء
وویک راج نے لبنان میں کیا دیکھا؟
اسی بارے میں
لبنان وڈیو بلیٹن
25 July, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد