مبصروں کی ہلاکت پر اسرائیلی معذرت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت نے لبنان میں اقوام متحدہ کے مبصروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے لبنان میں مبصروں کی ہلاکت کو 'دانستہ' کارروائی کہا تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ انہیں شدید حیرت اور صدمہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل تفتیش کر کے بتائے کہ اسرائئلی وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود کہ اقوام متحدہ کے عملے کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، ایسا کیوں کر ہوا؟ اس سلسلے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ انہیں اسرائیل نے بتایا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ ہے۔ اسرائیل نے اس واقعے پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کی جائے گی۔ لبنانی سکیورٹی فورسز نے سب سے پہلے اس کی اطلاع دی کہ اسرائیلی کے ایک فضائی حملوں کے دوران جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں اقوام متحدہ کے چار مبصر ہلاک ہوئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے یہ مبصر جن کا تعلق مختلف ملکوں سے تھا، خیام نامی قصبے کے پاس واقع ایک چوکی پر تعینات تھے۔ جنگ بندی کے حالات پر نظر رکھنے والے ان مبصرین کا تعلق ’آبزرور گروپ لبنان‘ سے تھا۔ اس گروپ کی تشکیل اقوام متحدہ کی 1948 کی قراردادوں کے تحت کی گئی تھی۔ لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مبصرین کی چوکی کے قریب دن بھر میں چودہ مرتبہ گولہ باری کی گئی جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ جب چوکی اور اس کی ایک قریبی ٹیم بم باری کا نشانہ بن گئی تو ایک انڈین دستے کو ملبہ ہٹانے کے لیئے بھیجا گیا لیکن یہ دستہ بھی اس وقت کھدائی کی زد میں آیا جب کھدائی کر رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اسرائیل سے فوری احتجاج کیا گیا ہے اور حملے روکنے کی درخواست کی گئی۔ دریں اثنا اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل مارک میلک براؤن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ لبنان میں مقیم اپنی عبوری فوج یونیفل کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ نائب سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انسانی مدد فراہم کرنے کے لیئے ہماری موجودگی ضروری ہے اور جب بھی لڑائی رکے گی تو ہمارا وہاں ہونا ضروری ہوگا۔ تمام کمزوریوں کے باوجود یونیفل کو اگر ہٹا لیا گیا لبنانیوں کو احساس ہوگا کہ بین الاقوامی برادری کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی عبوری فوج یونیفل کے دو ہزار فوجی 1982 سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر موجود ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان: اقوام متحدہ کے 4 مبصر ہلاک25 July, 2006 | آس پاس لبنان کیلیئے اقوام متحدہ کی اپیل25 July, 2006 | آس پاس لبنان وڈیو بلیٹن25 July, 2006 | آس پاس سری لنکن: لبنان میں رکنے کا فیصلہ25 July, 2006 | آس پاس لبنان: رائس کا دورۂ مشرقِ وسطٰی 24 July, 2006 | آس پاس ’لبنان: مذہب نہیں انسانیت اہم ہے‘24 July, 2006 | آس پاس ’لبنان پرحملہ عرب ملکوں کاامتحان ہے‘24 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||