BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لبنان: رائس کا دورۂ مشرقِ وسطٰی
کونڈولیزا رائس لبنانی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیئے بیروت پہنچیں ہیں
امریکی وزیرِخارجہ کونڈو لیزا رائس نے اپنے دورۂ مشرقِ وسطٰی کے آغاز پر بیروت میں لبنانی وزیراعظم فواد سینیورا سے ملاقات کی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق کونڈولیزا رائس لبنانی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیئے بیروت پہنچیں ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اس ملاقات میں لبنانی وزیراعظم کے ’حوصلے اور استقامت‘ کو سراہا۔ تاہم انہوں نے فواد سینیورا پر واضح کیا کہ حزب اللہ جیسے ’دہشتگرد گروہ‘ کو لبنانی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


تیرہ دن سے جاری اس لڑائی میں اسرائیلی حملوں سے اب تک تین سو بہتر لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں میں 37اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہکار کے مطابق مرنے والے لبنانیوں میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی آپاچی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے اور اس میں سوار دونوں پائلٹ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

تباہ ہونے والا ہیلی کاپٹر ہنگامی طور پر اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہیلی کاپٹر تاروں سے ٹکرانے کے بعد زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ فوج کے مطابق ہیلی کاپٹر دشمنوں کے حملے کی وجہ سے نہیں بلکہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔

آگ لگنے کے بعد ہیلی کاپٹر لبنان کی سرحد سے کوئی چار کلو میٹر دور ریحانیہ نامی علاقے میں واقع ایک باغ میں گرا جس سے اس میں آگ لگ گئی۔ امدادی کارکن آگ بجھانے کی کوشش کر رہےہیں تاکہ ہیلی کاپٹر تک پہنچا جا سکے۔

گزشہ ہفتے دو آپاچی ہیلی کاپٹر شمالی اسرائیل میں لبنان کی سرحد کے قریب آپس میں ٹکرنے سے تباہ گئے تھے جس میں ائر فورس کا ایک افسر ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔

دو ہفتے قبل شروع ہونے والے لبنان اور اسرائیل کے تنازعے میں اب تک اسرائیل کے چار ہیلی کاپٹر تباہ ہو چکے ہیں۔

ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوجیں جنوبی لبنان میں میں مزید پیش قدمی کر رہی ہیں اور انہیں حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج نے مارون الراس نامی لبنانی قصبے پر قبضے کے بعد حزب اللہ کے ایک اورگڑھ بنت جبیل کے اردگرد کے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی دعوٰی کیا ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے گوریلوں کے درمیان فوری فائر بندی کی ضرورت ہے۔تاہم اسرائیل کی جانب اپنے سفر کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی جنگ بندی کے دیرپا ہونے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا بھی اہم ہے۔

امریکہ کا موقف ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر جنگ بندی کا عمل بے کار ہوگا اور وہ الزام لگاتا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کی ذمہ داری حزب اللہ، ایران اور شام پر عائد ہوتی ہے۔

’جنگ بندی کے دیرپا ہونے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا بھی اہم ہے‘

اسرائیل نے پہلی بار یہ بھی کہا ہے کہ وہ لبنان میں امن فوج کی تعیناتی کو قبول کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ فوج یورپی ممالک سے ہو۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کے نمائندوں سے اسرائیلی حکام کی ملاقاتوں کے بعد اعلان کیا کہ اسرائیل لبنان میں امن فوج تعیناتی قبول کر سکتا ہے اگر یہ فوج یورپی ممالک کے فوجی دستوں پر مشتمل ہو اور اس کے پاس مناسب مینڈیٹ ہو۔

اسرائیل کے وزیر دفاع عامر پیرز نے جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ حزب اللہ کو علاقے سے نکالنے کے بعد سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے امن فوج کا ایک کردار ہو سکتا ہے لیکن حزب اللہ کی موجودگی میں امن فوج کی کوئی افادیت نہیں ہوگی۔

ادھر شام کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں ایسی بڑی زمینی فوجی کارروائی شروع کی جس سے شام کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے تو وہ اس تنازعے میں شامل ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ شام کا دارالحکومت دمشق لبنانی سرحد سے صرف بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

امن فوج قبول ہے
 اسرائیل لبنان میں امن فوج تعیناتی قبول کر سکتا ہے اگر یہ فوج یورپی ممالک کے فوجی دستوں پر مشتمل ہو۔
اسرائیلی وزیر اعظم

لبنان پر اسرائیلی حملوں اور اسرائیل پر حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی تیرہ روزہ مہم کے دوران اب تک 350 سے زائد لبنانی اور سینتیس اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے لبنانیوں میں سے بیشتر عام شہری تھے اور ان میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی تھی۔ لبنان میں پانچ لاکھ متاثرہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار سٹیوارٹ ہیوز کے مطابق عام خیال یہ ہے کہ اسرائیل لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک ’بفرزون‘ یا غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتا ہے تا کہ حزب اللہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ نہ پھینک سکے۔لبنان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجیں سرحد کے اندر آتی ہیں تو لبنانی فوج جنگ میں حصہ لے گی۔ ان کا کہنا ہے ’لبنان اپنے آخری فوجی تک اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا‘۔

امریکہ کیا چاہتا ہے؟
شامی،ایرانی طاقت کا خاتمہ، امریکی مقصد
حزب اللہ کی طاقت
کیا راز ہے حزب اللہ کی قوت کا؟
لبنان کی کمزور آرمی
کم فوجی اور بنیادی ساز وسامان سے محروم
فضائی یا زمینی حملے؟
لبنان میں زمینی آپریشن کی ضرورت کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد