BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 06:49 GMT 11:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرقِ وسطٰی میں تبدیلی کا’امریکی منصوبہ‘

درحقیقت اسرائیل اس وقت اپنی سرحدوں پر ہی لڑ رہا ہے
امریکی وزیرِ خارجہ کے پیر سے شروع ہونے والے دورۂ مشرقِ وسطٰی کے دوران فائر بندی کا امکان نہیں ہے کیونکہ فائر بندی کا تعلق علاقے میں امریکی سفارتکاری کے طویل المدتی اہداف سے ہے۔

تاہم اگر فوری فائر بندی کی کوئی امید ہو سکتی ہے تو اس کا پتہ کونڈالیزارائس کے بیانات میں تبدیلی سے ہی چل سکتا ہے۔ شاید اس جنگ زدہ علاقے کے رہائشی افراد کی مشکلات کو دیکھ کر اب وہ علاقے میں فائر بندی اور ایک دیرپا سمجھوتے کی بات کر رہی ہیں۔

اب امریکہ اور اسرائیل دونوں یہ کہ رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر انہیں جنوبی لبنان میں کسی قسم کی بین لااقوامی فوج کی تعیناتی پر اعتراض نہیں تاہم اس عمل میں ابھی بہت وقت لگ سکتا ہے۔

موجودہ حالات میں امریکی مؤقف کا پس منظر مشرقِ وسطٰی میں تبدیلی کے حوالے سے ’نیو کنزرویٹو‘ ایجنڈا ہے اور سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ اسرائیل کو وقت فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ حزب اللہ کو تباہ کر دے۔

بش انتظامیہ اس بحران کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے جس میں نہ صرف حزب اللہ کو تباہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شام اور بالاخر ایران میں’مطلوبہ‘ تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کونڈا لیزا رائس اپنے دورے کے دوران شامی اور ایرانی ایکتا میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کریں گی اور چاہیں گی کہ شام حزب اللہ پر دباؤ ڈالے اور یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس کے بارے میں جی آٹھ اجلاس کے دوران صدر بش اور برطانوی وزیراعظم گفتگو کرتے سنے گئے تھے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ۔۔۔
 بش انتظامیہ اس بحران کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے جس میں نہ صرف حزب اللہ کو تباہ کیا جا سکتا ہے بلکہ شام اور بالاخر ایران میں’مطلوبہ‘ تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

تاہم یہ عمل آسان نہیں ہوگا کیونکہ درحقیقت اسرائیل اس وقت اپنی سرحدوں پر ہی لڑ رہا ہے۔ اسرائیل گاؤں درگاؤں جنوبی لبنان کو فتح کر سکتا ہے لیکن اسے 1978 میں دریائے لیتانی کے پار حملہ کرنے کا نتیجہ اب بھی یاد ہے۔

اسرائیلی لبنان میں اٹھارہ سال تک رہے اور اس دوران انہوں نے یہی سیکھا کہ وہ جنوبی لبنان کو فتح تو کر سکتے ہیں لیکن اس پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ چناچہ ممکن ہے کہ یہ حالات کچھ عرصے تک جوں کے توں چلتے رہیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلے تاہم ممکن ہے کہ اس دوران مشکلات ذرا واضح طور پر سامنے آ جائیں۔

اور ویسے بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت نہ اسرائیل رکنا چاہتا ہے اور نہ ہی حزب اللہ۔ یورپی اقوام کا دباؤ اسرائیل کے لیئے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی یہ کوئی بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اسرائیل اس دباؤ کا عادی ہے۔

چنانچہ ممکنہ طور پر علاقے میں فائر بندی میں ابھی وقت لگے گا اور جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کا ایک دورہ کافی نہیں اور انہیں دوبارہ اس علاقے میں آنا پڑے گا۔ انہوں نے خود بھی اپنے حالیہ دورے کا مقصد صرف امن کی بنیاد رکھنا قرار دیا ہے۔

اس سارے بحران میں اصل نقصان لبنانی عوام کا ہوا ہے

تاہم جہاں تک لبنان میں تبدیلی کے مقصد کا سوال ہے وہ نہایت واضح ہے۔ اب زور دیا جائے گا کہ ستمبر 2004 میں منظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 1559 پر مکمل عمل ہو۔ اس قرارداد کے تحت بطور ملیشیا حزب اللہ کا کردار ختم ہونا ہے اور اسے بطور ایک سیاسی جماعت پنپنے کا حق حاصل ہوگا۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں لبنانی حکومت کی عملداری اسرائیل کی سرحد تک پھیل جائے گی اور اسرئیل کو مصر اور اردن کے بعد تیسرا ایسا ہمسایہ ملے گا جس سے اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

علاقائی لحاظ سے امریکہ کا مقصد حزب اللہ کے دونوں حامیوں شام اور ایران کی طاقت ختم کرنا ہے۔ لبنان میں شام کے اثرو نفوذ میں تو پہلے ہی کمی آ چکی ہے تاہم ایران کا اثر امریکہ کے لیئے باعثِ تشویش ہے کیونکہ اگر ایران حزب اللہ کے محافظ کا کردار ادا کرنا بند کردے تو علاقے کی صورتحال پر حزب اللہ کا اثر بہت کم ہو جائے گا اور یہی وہ مقصد ہے جو کہ امریکی انتظامیہ کا نصب العین ہے۔

حزب اللہ کی طاقت
کیا راز ہے حزب اللہ کی قوت کا؟
لبنان کی کمزور آرمی
کم فوجی اور بنیادی ساز وسامان سے محروم
احتجاج، اشتعال
اسرائیلی حملے: تباہی ہی تباہی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد