’ فوری فائر بندی کی ضرورت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے گوریلوں کے درمیان فوری فائر بندی کی ضرورت ہے۔ تاہم اسرائیل کی جانب اپنے سفر کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی جنگ بندی کے دیرپا ہونے کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنا بھی اہم ہے۔ مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے صدر جارج بش اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کے مابین ہونے والی ملاقات میں شرکت کی۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر سے لبنان میں فائر بندی کی کوششوں میں مدد مانگی تھی۔ کونڈو لیزا رائس مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت اور فلسطینی اتھارٹی کےصدر سےملاقات کریں گی۔اس کے بعد وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے روم روانہ ہو جائیں گی۔ دریں اثناء اسرائیل نے پہلی بار یہ کہا ہے کہ وہ لبنان میں امن فوج کی تعیناتی کو قبول کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ فوج یورپی ممالک سے ہو۔
اسرائیل کے وزیر دفاع عامر پیرز نے جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ حزب اللہ کو علاقے سے نکالنے کے بعد سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے امن فوج کا ایک کردار ہو سکتا ہے لیکن حزب اللہ کی موجودگی میں امن فوج کی کوئی افادیت نہیں ہوگی۔ ادھر اتوار کو سعودی عرب کے وزیر ِخارجہ سعود الفیصل نے لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہو گئیں۔ امریکہ لبنان میں فوری جنگ بندی کا حامی نہیں ہے اور اس کا موقف ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر جنگ بندی کا عمل بے کار ہو گا۔ امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کی ذمہ داری حزب اللہ، ایران اور شام پر عائد ہوتی ہے۔
ادھر شام کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں بڑی زمینی فوجی کارروائی شروع کی جس سے شام کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکیں تو وہ اس تنازعے میں شامل ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ شام کا دارالحکومت دمشق لبنانی سرحد سے صرف بیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ بھی اسرائیل پہنچے ہیں۔ فرانس فوری جنگ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر ژاں ایگلینڈ نےسنیچر کے روز بیروت کا دورہ کیا ہے اور شہر کی حالت زار پر رنج و غم کے اظہار کے ساتھ اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی۔ ژاں ایگلینڈ نے شہر کی تباہی کو ’ہیبت ناک‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس تنازع کے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ بمباری سے متاثر ہونے والے افراد تک امداد کی رسائی کے لیئے محفوظ رستوں کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے اتوار کو بیروت میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے بعد پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تباہی دیکھ کر سکتے کے عالم ہیں کہ ’اونچی عمارتوں کے بلاک در بلاک زمین بوس کردیئے گئے ہیں‘۔ کئی عمارتوں کے ملبے سے اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے۔ اسرائیل کی ایئرفورس نے بیروت اور جنوبی لبنان کے ساحلی شہر سیدون پر اتوار کو بمباری کی ہے جس میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک مسجد منہدم ہوگئی ہے۔
اس حملے سے قبل سیدون کے لوگ اور دیگر علاقوں سے آنے والے قریباً 42000 پناہ گزین اس شہر کو محفوظ علاقہ سمجھ رہے تھے۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بارہ روزہ مہم کے دوران اب تک 350 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری تھے اور ان میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی تھی۔ پانچ لاکھ متاثرہ افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ بیروت کی بندرگاہ سے رکاوٹ ہٹا دے گا تاکہ امداد اندر پہنچ سکے مگر اصل مسئلہ امداد کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ شدید بمباری سے سڑکیں، پل اور ٹرک تباہ کرچکی ہے۔ اسرائیل کے آرمی ریڈیو کے مطابق جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن میں توسیع کی جارہی ہے جس کے لیئے مزید فوجی تعینات کیئے جائیں گے۔ ادھر اسرائیلی شہر حیفہ پر حزب اللہ کے راکٹ حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئےہیں۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیر دفاع نے جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں نیٹو فوج کی تعینات پر راضی ہوجائے گا، ’کیونکہ لبنان کی فوج کمزور ہے‘۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ حزب اللہ کے ٹھکانے ختم کرنے تک ان کی موجودہ فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ اتوار کے حملوں سے پہلے اسرائیل کی وارننگ کے بعد جنوبی لبنان سے ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے مارون الراس نامی گاؤں پر مکمل قبضہ کر لیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کا گڑھ تھا اور وہاں سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے تھے۔اس کارروائی کے دوران اسرائیل کے چھ فوجی ہلاک ہوئے۔ اسرائیل نے سنیچرکو لبنان کی مواصلات کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کم از کم دو مقامات پر لبنان ٹی وی سٹیشن اور موبائل فون نیٹ ورک پر بمباری کی۔ سنیچر کو اسرائیلی ٹینک، دیگر فوجی اور بلڈوزر سرحدی باڑ توڑ کر لبنان میں داخل ہوگئے تھے۔ اتوار کو منہدم ہونے والی مسجد ایک ہسپتال سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حزب اللہ کے ارکان کے ملنے کامقام تھا تاہم مقامیوں ککا کہنا ہے کہ یہ ایک عام مسجد تھی جو صرف عبادت کے لیئے استعمال ہوتی تھی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کے دورہ اسرائیل سے قبل اتوار کو تین یورپی اہلکار اسرائیلی حکام سے ملاقات کریں گے۔
بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار سٹیوارٹ ہیوز کے مطابق عام خیال یہ ہے کہ اسرائیل لبنان کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک ’بفرزون‘ یا غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتا ہے تا کہ حزب اللہ وہاں سے اسرائیل کے اندر راکٹ نہ پھینک سکے۔ لبنان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجیں سرحد کے اندر آتی ہیں تو لبنانی فوج جنگ میں حصہ لے گی۔ ان کا کہنا ہے ’لبنان اپنے آخری فوجی تک اپنی سرزمین کا دفاع کرے گا‘۔ طائر میں عام شہریوں کی تدفین کے لیے بلڈوزر استعمال کیے گئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس22 July, 2006 | آس پاس رائس مڈل ایسٹ کا دورہ کریں گی21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل سے لڑنے کو تیار ہیں: وزیر21 July, 2006 | آس پاس لبنان پر زمینی حملے کی تیاریاں21 July, 2006 | آس پاس لبنان پر حملوں کے خلاف مظاہرے 21 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||