BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 July, 2006, 05:56 GMT 10:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوری فائر بندی ممکن نہیں: رائس
رائس اتوار کو مشرق وسطٰی کا دورہ کریں گی
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ مشرق وسطٰی میں فوری فائر بندی کی کوئی صورت نہیں ہے اور ایسا کہنا جھوٹا وعدہ کرنےکے مترادف ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سب سے پہلے تشدد کی بنیادی وجہ سے چھٹکارا پانے کی ضرورت ہے جو ان کے خیال میں ’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی ہے‘۔ رائس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع ایک نئے مشرق وسطٰی کے وجود میں آنے کی شروعات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع سے قبل علاقے کی صورتحال کے استحکام کا کوئی امکان نہیں تھا۔

رائس اتوار کو مشرق وسطٰی کا دورہ کریں گی۔ روم میں ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل وہ اسرائیل جائیں گی۔ روم میں کونڈولیزا رائس یورپی اور عرب رہنماؤں سے بات چیت کریں گی۔

لبنان کے تنازع کے حل کے لیئے دیگر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر بھی مشرق وسطٰی کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ والٹر نے 2004 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں مذاکرات کاری کی تھی۔

فرینک والٹر اسرائیل کے دورے سے قبل قاہرہ میں رکیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مشرق وسطٰی کے دورے کےاعلان کے باوجود امریکی موقف میں کوئی لچک نہیں آئی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے بند کرنے کے سلسلے میں کوئی دباؤ نہیں ڈالے گا۔

امریکہ اسرائیل کے اس موقف کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے کہ حزب اللہ کے خطرے کو ہٹائے بغیر امن کی بات ناقابل قبول ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے ڈین گلرمین نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اقوام متحدہ کی جانب سے لبنان میں انسانی مصائب کے بحران کی صورت حال کے بارے میں انتباہ کے بعد اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے علاقوں میں امدادی اشیاء فراہم کرنے والی گاڑیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔

لبنانی وفد انتہائی دباؤ کا شکار ہے اور اپنے ملک پر اسرائیلی بمباری اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی نے انہیں مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔

فرانس نے بھی لبنان اسرائیل تنازعے کے حل کے لیئے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں۔ فرانس کے وزیر خارجہ ان دنوں بیروت میں ہیں۔

اس سے قبل صدر شیراک نے بھی اس تنازعے کے حل کے لیئے یورپی یونین کے پالیسی چیف کو بطور خصوصی ایلچی نامزد کرنے کی درخواست کی ہے اور دونوں اطراف سے صلح یا عارضی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

گزشتہ ہفتے فرانس کے وزیراعظم بھی لبنان کے عوام سے اظہار یک جہتی کے لیئے بیروت میں تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد