BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 03:24 GMT 08:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ سربراہ
لبنان کی لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں سب سے زیادہ بچے ہیں۔
لبنان کی حزب اللہ ملیشیا کے سربراہ نصر اللہ نے کہا ہے کہ مقید اسرائیلی فوجیوں کو صرف قیدیوں کے تبادلے میں ہی رہائی مل سکتی ہے۔

عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں نصر اللہ نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ان دو اسرائیلی فوجیوں کو رہا نہیں کر سکتی جو ان کی قبضے میں ہیں۔

اسرائیل نے اپنے دو فوجیوں کو رہا کرانے کے لیے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر رکھی جس میں ابتک تین سو سے زائد لبنانی اور انتیس کے قریب اسرائیل ہلاک ہو چکے ہیں۔

دونوں طرف سے زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں پانچ لاکھ کے قریب افراد بےگھر بھی ہو گئے ہیں۔

حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کے ان دعوؤں کو رد کر دیا جن کے مطابق حزب اللہ کی آدھی قیادت کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

بدھ کی رات کو اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے رہنماؤں کی پناہ گاہ قرار پر تئیس ٹن وزنی بم گرانے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کا ہیڈکواٹر تباہ کر دیا گیا ہے اور اس کی آدھی قیادت بھی ختم ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوجی
اسرائیلی فوجی لبنان پر گولے برسانے سے قبل تورات پڑھ رہے ہیں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے لبنان میں فوراً جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل نے کوفی عنان کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔

کوفی عنان نےلبنان کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کرنے حزب اللہ کی مذمت کی لیکن انہوں نے اسرئیل کو بھی ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

کوفی عنان نے کہا جنگ بندی کی غیر موجودگی میں امداد پہنچانے کے راستے کھلے رہنا ضروری ہیں۔

اسرائیل نے لبنان میں امداد پہنچانے کے راستے کھلنے رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

کوفی عنان نے کہا کہ جنگ بندی کر کے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے تاکہ وہ بحران کا کوئی پرامن حل نکالا جا سکے۔

اسرائیل نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے دو ہیلی کاپٹر لبنان میں گر کر تباہ ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے کہا کہ دونوں ہیلی کاپٹر اتفاقیہ طور پر آپس میں ٹکرا گئے تھے اور وہ کسی جوابی کارروائی کا نشانہ نہیں بنے۔ اس دوران دو اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر غزہ سے موصول ہونے اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے فوجی غزہ کے علاقے مغزی سے واپس جانا شروع ہو گئے ہیں جہاں انہوں ایک دن میں تیرہ فلسطینوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا ائے نے اسرائیل اور حزب اللہ سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل قتلِ عام کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں انسانی المیے میں ہر گزرتے ہوئے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور زخمیوں کے لیئے طبی امداد پہنچانا ناممکن ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں سے سڑکیں اور پل تباہ ہوچکے ہیں۔


جمعرات کو حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے دو اسرائیلی ٹینک تباہ کر دیئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے مگر کہا ہے کہ اس کے تین سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی بمباری سے لبنان تباہی کا ایک منظر پیش کر رہا ہے

اقوامِ متحدہ کےہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر ژان ایگلینڈ نے کہا ہے کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ عام لوگوں کے درد کو محسوس کر رہے ہیں۔ ژان ایگیلنڈ کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں ایک تہائی بچے ہیں۔

دریں اثناء زبردست بمباری کے دوران غیر ملکیوں کو لبنان سے نکالے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانیہ، امریکہ، بھارت اور ناروے کے بحری جہاز اپنے شہریوں کو لبنان سے نکال کر لے جا رہے ہیں۔

امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کہا ہے کہ یہ خیال کہ جنگ بندی سے مسئلہ حل ہو جائے گا، درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ کیا کوئی اس بات پر روشنی ڈالے گا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جنگ بندی کیسے کی جائے۔ مجھے کوئی بتائے کہ کب ماضی میں کسی ملک اور کسی دہشت گرد تنظیم کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی۔ یہ مختلف حالات ہیں اور ان میں روایتی سوچ کام نہیں کرے گی۔‘

اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ نےگھروں میں میزائل چھپا رکھے ہیں۔’ ہم ان سے کہہ رہے ہیں کہ یا تو میزائل پھینک دو، یا گھر چھوڑ دو، ہم بیٹھ کر ان میزائلوں کو اسرائیل پر داغے جانے کا انتظار نہیں کر سکتے۔‘

یورپی یونین نے گزشتہ روز کے حملوں کو ’غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
لبنانکہیں کوئی گھرنہیں
بیروت کے شہری کہیں کوئی گھرنہیں ہے
 لبنانمشرق وسطیٰ کا بحران
مشرق وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں
حزب اللہ کے کارکنحزب اللہ کیا ہے؟
لبنان کی مزاحمتی تحریک اور اس کے مقاصد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد