مشرق وسطیٰ بحران کا حل آسان نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کا دورہ کرنےوالےغیر ملکیوں کواکثر اسرائیلوں سے سننا پڑتا ہے کہ ہمسائے سخت ہیں۔ اسرائیل کی پڑوسیوں کے بارے میں اس رائے سے اس کی حالیہ کارروائی کی شدت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن اسرائیل کا اپنا ایجنڈا بھی ہے اور وہ اس ایجنڈے پر اتنی ہی طاقت سے عمل کرتا ہے جتنی طاقت اس کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔ اسرائیل کا ایجنڈا ہے کہ حزب اللہ کی طاقت کو کم کیا جائے کیونکہ اسرائیل کو حزب اللہ سے ماضی کے کئی پرانے حساب بھی چکانے ہیں۔ اسرائیلی سرحدوں کو حزب اللہ سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے اور حال ہی اس کے دور تک مار کرنے والے راکٹ لانچر کی صلاحیت سے یہ خطرہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ اسرائیل کے نو منتخب وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ہیفا میں حزب اللہ کے حملے کے بعد سنگین نتائج کی دھمکی ہے۔ اس راکٹ حملے میں آٹھ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلیوں کی ہلاکت کے علاوہ اس حملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ کی پہنچ اسرائیل کے آبادی کے لحاظ سے تیسرے بڑے شہر تک پہنچ ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس سے پہلے بھی لبنان میں آپریشن کر چکا ہے۔ اسرائیل نے پہلا آپریشن 1993 میں کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران اس نے بری فوج کا استعمال کرتے ہوئے لبنان میں حزب اللہ کے مراکز پر حملہ کیا۔ تین سال بعد اسرائیل نے ایک اور حملہ کیا جس میں اس نے صرف ایئرفورس کا استعمال کیا۔اس حملہ میں اسرائیل نے بیس ہزار شیل لبنان میں فائر کیے جبکہ حزب اللہ نے چھ سو راکٹ اسرائیل میں داغے۔ پچھلے اسرائیلی آپریشن اور موجودہ آپریشن میں کچھ مماثلتیں ہیں۔پچھلے آپریشن میں بھی اسرائیل نے لبنان کے پاور سٹیشنوں، سڑکوں، پلوں کو نشانہ بنایا تھا جبکہ اس مرتبہ بھی وہ یہی کچھ کرتا نظر آتا ہے۔ پچھلا آپریشن سولہ دن جاری رہا تھا اور اگر اس کو بنیاد بنا کر دیکھا جائے تو اسرائیل کے پاس لبنان میں کارروائی کے مزید کچھ دن باقی ہیں۔ موجودہ دور میں لیزر گائیڈڈ میزائیل کی وجہ فوجی کمانڈروں کو سہولت ہے کہ وہ زمینی حملہ کیے بغیر بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔اس بنیاد پر یہ سوچا جا سکتا ہے کہ اسرائیل لبنان میں بری فوج کے ذریعے کارروائی نہیں کرے گا اور اپنی ایئر فورس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کیا اسرائیل حزب اللہ کی طاقت کو اتنا کم کر سکتا ہے کہ وہ لبنانی فوج کے قابو میں آ سکے۔ حزب اللہ موجودہ لبنانی حکومت کا حصہ ہے۔ لبنان کی حکومت کا اثرو رسوخ بڑھانا اسرائیل کی پالیسی ہے۔ اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ ایران اور شام حزب اللہ کی کارروائیوں کے ذمہ دار اور وہ اسے ایسا کرنے پر اکسا رہے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا اسرائیل شام کے خلاف بھی کوئی کارروائی کرے گا کیونکہ ایران تک وہ شاید پہنچ نہ سکے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل شام کے خلاف بھی کارروائی کرسکتا ہے جو علاقے میں اسرائیل کے مخالفوں میں سب سے طاقتور ہے۔ امریکہ علاقے میں امن قائم کرنے کے اپنا کردار ادا کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ عراق میں جنگ شروع کرنے کے بعد امریکہ کا علاقے میں اثرو رسوخ بڑھنے کی بجائے کم ہو گیا ہے اور وہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ جی ایٹ ممالک نے بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور ساتھ اسرائیل سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور لبنان اور غزہ میں اپنی کارروائی بند کرے۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کی کارروائی سے تنازعہ سارے علاقے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ مشرق وسطیٰ پہلے بھی ایسے صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے لیکن اس کی بہرحال کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اس دفعہ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس مسئلے کو کوئی آسان حل بھی موجود نہیں ہے۔ | اسی بارے میں لبنان: حزب اللہ کیا ہے؟13 July, 2006 | آس پاس اسرائیل پر قرار داد، امریکہ کا ویٹو13 July, 2006 | آس پاس مزید لبنانی شہری، اسرائیل کا نشانہ 15 July, 2006 | آس پاس لبنان پر مزید اسرائیلی بمباری14 July, 2006 | آس پاس ’صرف ہمارے بچےنہیں مریں گے‘14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، 50 ہلاک 14 July, 2006 | آس پاس لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی 13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||