لبنان پر اسرائیلی حملے، ناکہ بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے رات بھر لبنان پر حملے کیے ہیں، بیروت کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور لبنان کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں ستائیس افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ اسرائیل کی یہ کارروائی بدھ کو حزب اللہ کے ہاتھوں اس کے دو سپاہیوں کے قبضے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ ان سپاہیوں کے بدلے حزب اللہ نے اپنے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل کے فوجی ریڈیو نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی جہاز لبنانی سمندری حددو میں گھس گئے۔ اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل اسرائیل جہازوں نے بیروت انٹرنیشنل ائر پورٹ پر حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں بیروت ائیر پورٹ جہازوں کی آمدورفت کے لیئے بند کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی میزائلوں نے حزب اللہ کے ٹی وی سٹیشن ’المینار‘ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ لبنان کے جنوب میں رات بھر جاری رہنے والے ان فضائی حملوں میں ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں بھی ایک فوجی کی بازیابی کے لیے اسرائیل فوج مزاحمت کاروں سے جنگ میں مصروف ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جہازوں نے فلسطین کی وزارت خارجہ کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور حملے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کے فوجی ترجمان نے بیروت ایئر پورٹ پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایئر پورٹ دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے لیئے ہتھیاروں کی فراہمی اور ان کی منتقلی کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا‘۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان سے سمندری راستوں کی بھی ناکہ بندی کر دی۔ اسرائیل کی ایک سرحد شام سے بھی ملتی ہے۔ لبنان کے ساتھ جھڑپوں میں اسرائیلی کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ اسرائیل کا لبنان کی سرحد پر کئی سالوں کے بعد سب سے بڑا نقصان ہے۔ ان جھڑپوں میں آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے ہیں۔ حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجی اپنے قبضے میں کر لیے ہیں جس کے بعد اسرائیل مے لبنان پر حملے شروع کیے۔ اسرائیل نے اس کی ذمہ داری لبنان کی حکومت پر عائد کی ہے اور اسے ایک جنگی حربہ قرار دیا ہے۔ جمعرات کی صبح بیروت انٹرنشینل ایئر پورٹ کے رن وے پر تین راکٹ فائر کیے گئے۔ ایئر پورٹ لبنانی دارالحکومت کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کے کنڑول والے علاقے میں واقع ہے۔ حملوں کے بعد فلائٹوں کا سلسلہ معطل کر دیا گیا ہے۔ رات بھر جاری ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں دس بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جہازوں نے حزب اللہ کے چالیس ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ’دوئیر‘ قصبے میں ایک ہی خاندان کے دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شمالی ساحلی قصبے ساحلی ’نہاریہ‘ پر راکٹ حملے کیے ہیں جس سے ایک چالیس سالہ خاتون ہلاک ہو گئی۔ اسرائیل نے خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ دریں اثناء حزب اللہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کے قبضے میں موجود دو اسرائیلی فوجی صرف مذاکرات کے ذریعے ہی واپس حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔
حزب اللہ کے چیف حسین نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اس بحران کو شدید تر کرنا چاہتا ہے تو ان کی افوج مقابلے کے لیئے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے فوجیوں کی بازیابی کے لیئے طیاروں، ٹینکوں اور جنگی کشتیوں کی مدد سے جنوبی لبنان پر حملے کے بعد دیا ہے۔ سنہ 2000 کے بعد ہونے والے اس حملے میں سڑکوں اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اب تک دو شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق ہزاروں ریزرو فوجیوں کو سرحد پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کے ترجمان حسین نابلوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم اِن فوجیوں کے بدلے میں اسرائیلی جیل میں قید لبنانیوں کی رہائی چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل بات چیت پر آمادہ ہو جائےگا‘۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنان پر اسرائیل حملے کے ساتھ فوجیوں کو پکڑنے کی بھی مذمت کی ہے۔ بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ لبنانی حکومت بھی اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے واقعے سے حیران ہے اور ’جو کچھ ہوا ہے وہ اس کی ذمہ دار نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں حزب اللہ نے بھی دو فوجی پکڑ لیئے12 July, 2006 | آس پاس ’مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں‘12 July, 2006 | آس پاس بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ13 July, 2006 | آس پاس لبنان: حزب اللہ کیا ہے؟13 July, 2006 | آس پاس آٹھ اسرائیلی فوجی ہلاک13 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||